دستانہ پہن کر قرآن پاک پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ آج کل سردی کی شدت کی وجہ سے بعض حضرات دستانے استعمال کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر کسی قارئ قرآن کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا وہ دستانے پہن کر تلاوت قرآن مجید کی غرض سے قرآن شریف کو چھو سکتا ہے...........؟ المستفی آصف رضا مرادآباد یوپی

       جواب

وہ کپڑا جس کو پہنے ہوئے ہیں اس سے قرآن کریم کو چھونے کی ہرگز اجازت نہیں
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اقول لکنی(۱) رایت فی التبیین قال بعد قولہ منع الحدث مس القران ومنع من القرأۃ والمس الجنابۃ والنفاس کالحیض مانصہ ولا یجوز لھم مس المصحف بالثیاب التی یلبسونھا لانھا بمنزلۃ البدن ولھذا لوحلف لایجلس علی الارض فجلس علیھا وثیابہ حائلۃ بینہ وبینھا وھو لابسھا یحنث ولوقام(۲) فی الصلاۃ علی النجاسۃ وفی رجلیہ نعلان اوجوربان لاتصح صلاتہ بخلاف المنفصل عنہ ۱؎ اھ (حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۲ ص۹۵ رضا فائونڈیشن لاہور)
اور بہار شریعت میں ہے اس حالت میں کُرتے کے دامن یا دوپٹے کے آنچل سے یا کسی ایسے کپڑے سے جس کو پہنے، اوڑھے ہوئے ہے قرآنِ مجید چُھونا حرام ہے غرض اس حالت میں قرآنِ مجید و کتب ِدینیہ پڑھنے اور چھونے کے متعلق وہی سب اَحْکام ہیں جو اس شخص کے بارے میں ہیں جس پر نہانا فرض ہے جن کا بیان غُسل کے باب میں گزرا (حوالہ ج۱ ح۲ ص۳۷۸ مکتبہ المدینہ کراچی) حاصل کلام یہ کہ بے وضو شخص کو پہنے ہوئے کپڑے سے قرآن کریم نہیں چھو سکتا ہے البتہ پہنے ہوئے نہ علیحدہ ہو تو چھونا جائز ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

مقام نیپال الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے