ویلنٹائن ڈے منانا کیسا ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ویلنٹائن ڈے منانا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں المستفی محمد توقیر رضا

       جواب

ویلنٹائن ڈے منانا اسلام میں میں ہرگز ہرگز جائز نہیں اولا تو یہ ایک پادری کے مرن دن اور اس کی محبت کے افسانے کی کی یاد گار کہ جس کا پس منظر یہ ہے کہ
جیسا کہ مفتی محمد فضیل احمد قادری صاحب تحریر فرماتے ویلنٹائن ایک پادری کا نام تھا جو تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیر حکومت رہتا تھا کسی نافرمانی کی بنا پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہو گیا حتی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کرلیا اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کردیا جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دے دیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات میں اپنی معشو قہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا مخلص ویلنٹائن کی طرف سے بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دے دی گئی اس کے بعد سے 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس کے نام کے طور پر منایا جاتا ہے ہے (ویلنٹائن ڈے قران و حدیث کی روشنی میں۔ ص ۱۱/۱۲ ) دوم یہ کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ افراد نے اس کو وہ روپ و رواج دیا کہ جس کی تباہ کاریاں نے معاشرے کو ایسا فاسد کیا ہے جو کسی بھی ذی عقل سے پوشیدہ نہیں کہ جوان مرد و زن کا آپس میں تبادلہ تحائف ؛ ایک دوسرے سے جسمانی لطف؛ بوس و کنار زنا کاری؛ شراب نوشی نہ جانے کتنے ایسے جرائم کو جنم دیا ہے کہ جن کو اسلام نے متعدد آیات قران و احادیث میں حرام قرار دیا ہے جو اھل فہم پر پوشیدہ نہیں لہذا ویلنٹائن ڈے منانا حرام سخت حرام ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہ جہاں پوری

خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے