نماز میں چھینک آئے تو الحمد للہ کہنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیافرماتے ہیں علماءکرام و مفتیان عظام اس مسٸلے میں کہ اگر نماز میں چھینک آیے تو الحمدﷲ کہنا چاہیے یا نہیں ؟ المستفی محمداعظم ، بریلی شریف

       جواب

نماز میں چھینک کے متعلق کٸ صورتیں نکلتی ہیں مثلا اگر مصلی یعنی نماز پڑھنے والے کو چھینک آٸی اور اس نے الحَمْدُ ِلله اپنے آپکو مخاطب کرتے ہوۓ کہا تو اس صورت میں نماز میں کوٸی خرابی واقع نہیں ہوگی! لیکن بہتر ہے کہ سکوت کرے قال العاطس {یعنی قال المصلی الحَمْدُ ِلله او یرحمک اللہ} لاتفسدصلاته و ینبغی أن یقول فی نفسه والاحسن ھو السکوت کذا فی الخلاصة المجلدالاول ، کتاب الصلوة ، ص ٩٨ {مکتبہ زکریا دیوبند} اور اگر نماز پڑھنےوالے نےکسی دوسری کو چھینک آنے کے جواب میں کہا الحَمْدُ ِلله یا یرحمک اللہ وغیرہ تب ایسی صورت میں نماز فاسد ہوجاۓگی! اور اگر کہا مگر دوسرےکے جواب میں نہیں بلکہ خودکومخاطب کرتے ہوۓتوحرج نہیں! مگر یہ بھی بہتر نہیں
فتاویٰ ھندیہ میں ہے عربی عبارت رجل عطس فقال المصلی یرحمک اللہ تفسد صلاته کذافی المحیطین ، و لوقال العاطس یرحمک اللہ و خاطب نفسه لایضرہ کذافی الخلاصة {المرجع السابق} واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول و امام جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ ڈگری حاصل کی جا رہی ہے...
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
لال سوئی خانہ کعبہ کی سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0