3.26.2022

بھنگ اور افیون کی بیع شرعاً کیوں جائز ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں ک بھنگ اور افیون کی بیع و شیرا کیوں جاںٔز ہے جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی المستفی محمد سلطان احمد ممبئی

       جواب

افیون و بھنگ وغیرہ کا استعمال کٸ طریقے پر ہوتا ہے لہذا کچھ طریقوں پر اسکا بیع جاٸز ہے یعنی کسی ایسے شخص کو جو دوا وغیرہ کے استعمال میں لاۓ تو جاٸز ہے اور اگر خریدنےوالا اسکو کھاتا ہے تب ایسےکےہاتھ بیچنا ناجاٸز ہے کہ یہ گناہ پر اعانت یعنی مدد کرنا جو کہ قطعا ناجاٸز ہے
قرآن شریف میں ہے وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو سورہ ماٸدہ ، آیت ٢
اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے، ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہوں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت ہے حوالہ بہارشریعت ، حصہ ، ١٦ ، ص ٤٨١ {مکتبہ مدینہ دھلی} واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبیداللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس جامعہ عربیہ فیض الرسول و امام جامع مسجد قصبہ رچھا ضلع بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

جـمـلہ وحـقـوق اسـلامـی مـعـلـوت کـے لـئـے مـحـفـوظ ہے اسـلامـی مـعلـومـات گــروپ 2023

Designed By MO SHAFEEQ RAZA

Whatsapp Button works on Mobile Device only