سود خور کی لڑکی سے شادی کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  علماء کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ اگر لڑکی کا باپ سود خور ہو تو اس کے گھر سے رشتہ کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں المستفی شاھد رضا

       جواب

سود خوروں کے گھر کھانا پینا نہ چاہیے لیکن حرام و گناہ نہیں, شادی بیاہ بھی جائز ہے لیکن بہتر ہے کہ کسی اچھے گھر سے رشتہ قائم کرے جہاں دینداری ہو تاکہ آنے والی نسلیں نیکوں کار ہوں حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریوری تحریر فرماتے ہیں : سود خور کے یہاں کھانا نہ چاہئے مگر حرام و ناجائز نہیں، جب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمارے سامنے کھانے کو آئی بعینہٖ سود ہے مثلًا ان گیہوں کی روٹی جو اس نے سود میں لئے تھے یا سود کے روپئے سے اس طرح خریدی گئی ہے کہ اس پر عقد و نقد جمع ہوگئے یعنی سود کا روپیہ دکھا کر اس کے عوض خریدی اور وہی روپیہ اسے دے دیا، جب تك یہ صورتیں تحقیق نہ ہوں وہ کھانا حرام ہے نہ ممنوع فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ یعنی فتاوٰی ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد سے منقول ہے کہ ہم اسی(قول جواز) کو لیتے ہیں جب تك بعینہٖ کسی شئ کا حرام ہونا معلوم نہ ہوجائے (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ١۷ ص ٣٦۲) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد معصوم رضا نوری ارشدی عفی عنہ

۱۵ شعبان المعظم ۱۴۴۳ ھجری ۱۹ مارچ ۲۰۲۲ عیسوی شنبه

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے