دیہات میں جو جمعہ پڑھے تو کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علماے دین درج ذیل مسئلہ میں کہ کسی ایسے قصبہ میں پہنچ گئے جہاں پر جمعہ نہیں ہو سکتی مگر لوگ وہاں جمعہ پڑھ رہے ہوں ایسی صورت میں کیا کریں؟ نماز ظہر پڑھیں یا امام کے پیچھے جمعہ پڑھ لیں؟ با الاتفاق جمعہ پڑھ چکے ہوں تو کیا دوبارہ ظہر ادا کرنا ہوگا؟ المستفی محمد مقیم احمد جھارکھنڈ

       جواب

(فأجاب) اگر ایسا ہو کہ اس دیہات میں اکثر لوگ صرف جمعہ کی نماز ادا کرتے ہوں اور انہیں اس سے بھی روک دیا جائے تو دھیرے دھیرے دیہات میں نمازیں اور اذانیں سب بند ہوجائیں گی تو انہیں منع نہیں کیا جائے گا لیکن مسئلہ جاننے والے کو چاہیے کہ وہ خود نہ پڑھے. اگر امام مسئلہ جانتا ہو تو عوام کو دیگر نمازوں کی اہمیت سے آگاہ کرے. جب دیگر نمازوں میں بھی عوام پہل کرنے لگے تو انہیں نماز جمعہ والے مسئلہ سے آگاہ کرے خیال کرتے ہوئے کہ فساد پیدا نہ ہو امام نابلسی فرماتے ہیں: لا ینبغی ان ینهی الواعظ عما قال به امام ائ المسلمین بل ینبغی ان یقع النهی عما اجمع الائمة کلهم علی تحریم

(حدیقة الندیة، ۱۵۱/٢؛ فتاوی رضویہ
یہ نہ چایئے کہ واعظ ایسی چیز سے روکے جسے ائمہ مسلمین میں سے کسی امام نے جائز کہا ہو بلکہ ممانعت ایسے کام سے ہونا چاہئے جس کی حرمت پر سب ائمہ کا اجماع ہو. (مثلا: اگر شافعی مذہب میں کوئی چیز جائز ہو اور احناف کے نزدیک مکروہ ہو تو حنفی اسے مکروہ جانتے ہوئے اس پر عمل نہ کرے اور اگر کوئی کرے تو اسے روکے نہیں بشرطیکہ وہ کام، فاعل کو الله ورسول کے قریب کرتا ہو اور وہ یہ نہ کرے تو الله ورسول سے دور ہوتا چلا جائے گا
امام اہل سنت فتاوی رضویہ (٤٣٩/٨) میں فرماتے ہیں خود نہ پڑھیں گے حکم پوچھا جائے گا تو فتوٰی یہ دیں گے جہاں نہیں ہوتے قائم نہ کریں گے با ایں ہمہ اگر عوام پڑھتے ہوں منع نہ کریں گے ج
درمختار کرہ تحریما صلوۃ مطلقا أو نفلا مع شروق إلا العوام فلا یمنعون من فعلها لانهم یترکونها والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك.. ملخصاً (در مختار، کتاب الصلوۃ، ۶۱/١ طلوعِ آفتاب کے وقت ہر نماز مکروہ تحریمی ہے خواہ نفل ہو لیکن عوام کو نماز پڑھنے سے روکا نہیں جائے گا کیونکہ وہ بالکل ترک کردیں گے، اور جو بعض کے نزدیک جائز ہو اس کا بجالانا ترک سے اولٰی ہوتا ہے
ردالمحتار میں ہے (قوله: فلا يمنعون من فعلها) أفاد أن المستثنى المنع لا الحكم بعد الصحة عندنا. (قوله: عند البعض) أي بعض المجتهدين كالإمام الشافعي هنا. (رد المحتار، ٣٧١/١: ”قوله فلا یمنعون واضح کررہا ہے کہ استثنا، منع کا ہے نہ کہ عدم صحت کے حکم کا ہمارے نزدیک، قولہ عند البعض یعنی بعض مجتہدین مثلا امام شافعی کے نزدیک اس مقام پر جواز کا قول ہے) الخ مذہب حنفی میں (دیہات میں) جمعہ وعیدین جائز نہیں لیکن جہاں قائم ہے وہاں منع نہ کیا جائے اور جہاں نہیں ہے وہاں قائم نہ کیا جائے۔ آخر شافعی مذہب پر تو ہو ہی جائے گا۔ ایسی صورت میں جہلاء جمعہ تو جمعہ ظہر بھی چھوڑ دیں گے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰی ﴿۹﴾ عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی (العلق، ١٠ بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے) سے خوف کرنا چاہیے. مولا علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم سے منقول ہے کہ ایک شخص کو طلوع آفتاب کے وقت نفل پڑھتے ہوئے دیکھ کرمنع نہ فرمایا جب وہ پڑھ چکا تو مسئلہ تعلیم فرمادیا (تفسیر الکبیر، سورۃالعلق، ملخصا؛ در المختار، ص: ١١٣) (ملفوظات اعلی حضرت، ص: ٣٠٠)
اور صدر الشریعہ فرماتے ہیں دیہات میں جمعہ جائز نہیں اور پڑھنے سے ظہر کی نماز ذمہ سے ساقط نہیں ہوتی لیکن عوام اگر پڑھتے ہوں تو انہیں منع نہیں کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی الله ورسول کا نام لیں غنیمت ہے (فتاوی فیض الرسول، ص: ٤٠٥، ٤٠٦، ٤٠٧)
اور فرمایا جس گاؤں کے لوگ جمعہ پڑھتے ہیں انہیں منع نہ کیا جائے، مگر خود پڑھنا، یا امامت کرنا یا مسئلہ شرعیہ کو چھپانا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے بلکہ اگر یہ شخص عالم ہے اور جمعہ کی امامت کرتا ہے اگرچہ بہ نیت نفل تو عوام کے خیالات کی اور تائید کرنا ہے لہذا ایسی صورت میں اچھے پیرایہ میں عوام کو سمجھائے کہ فساد کی نوبت نہ آئے (فتاوی امجدیہ، ٢٨٥/١) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی

مقام گونڈی ممبئی مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے