کیا والد کو زکاۃ دے سکتے ہیں یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے کیا والد کو زکاۃ دے سکتے ہیں یا نہیں جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفی محمد وارث علی بنارس

       جواب

والد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے ہیں اگر چہ وہ غریب ہو۔ لڑکے ہو تو لڑکے ہر لڑکی ہو تو لڑکی پر اس کی دیکھ بھال کرنا ضروری ہے
اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ سے سوال ہوا میری زکوٰۃ کا روپیہ اپنے والدکو کسی حیلہ سے دے سکتی ہُوں یا نہیں، کیونکہ والدایسی غربت میں ہیں کہ باہر نکلنے بیٹھنے میں شرم آتی ہے اور وہ ایک آبر ودار آدمی ہیں اور نہ کوئی ایسا آدمی ہے کہ میں اس آدمی کو دے دُوں وُہ اپنی طرف سے بھی والد کو دے اس صورت میں کسی حیلہ سے اپنے والد کو زکوٰۃکا پیسہ دے سکتی ہُوں یا نہیں؟" تو آپ رحمتہ اللہ علیہ جوابا ارشاد فرماتے ہیں : "باپ کو زکوٰۃ دینا کسی طرح جائز نہیں، نہ اُس کی دی زکوٰۃ ادا ہو سکے۔ یہ بات اگر واقعی ہے کہ باپ ایسا ہی حاجتمند ہے اور سائلہ میں یہ طاقت نہیں کہ زکوٰۃ بھی دے اور باپ کی بھی خدمت کرے اور ایسا اطمینان کا شخص کوئی نہیں پاتی کہ اسے زکوٰۃ دے اور وُہ اپنی طرف سے اُس کے باپ کودیں تو اس کا یہ طریقہ ممکن ہے کہ مثلاً دس روپیہ زکوٰۃ کے دینے ہیں اور چاہتی ہے کہ یہ روپیہ اُس کے باپ کو پہنچے تو کسی فقیر مصرف زکوٰۃ کے ہاتھ مثلاًدس سیر یا پانسیر گیہوں دس روپیہ کو بیچے اور اسے سمجھا دے کہ زر ثمن ادا کرنے کی تمھیں دقت نہ ہوگی ہم زکوٰۃ دیں گے اسی سے ادا کردینا، جب وُہ بیع قبول کرے گیہوں اس کو دے دے اب اُس کے دس درہم بابت ثمن گندم اُس پر قرض ہوگئے اُس کے بعد اسے دس روپیہ زکوٰۃ میں دے کر قبضہ کرادے زکوٰۃ ادا ہوگئی پھر گیہوں کی قیمت میں روپے واپس لے وہ یوں نہ دے تو جبراً لے سکتی ہے کہ وہ اس کا مدیون ہے اب یہ روپیہ اپنے باپ کو دے دے
درمختار میں ہے حیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکٰوتہ ثم یا خذھا عن دینہ ولوامتنع المدیون مدیّدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان مانعہ رفعہ للقاضی۔۱؎ حیلہ جوازیہ ہے کہ اپنے مقروض فقیر کو زکوٰۃ دی جائے پھر قرض کے عوض اس سے وہ رقم واپس لے لی جائے اگر مقروض نہ مانے تو اس سے چھین لی جائے کیونکہ یہ اپنے مال کے حصول پر قدرت کی صورت ہے،اگر اس میں بھی رکاوٹ بنے تو معاملہ قاضی کے پاس لے جایاجائے۔ مگر اس کا لحاظ لازم ہے کہ محتاج باپ کا نفقہ اُس کی سب غنی اولاد پر لازم ہے، بیٹا بیٹی سب پر برابر، تو اگر تنہا یہی اس کی اولاد ہے تو اس پر اس کا کل خرچ کھانے پہننے رہنے کے مکان کا لازم ہے، اور اگر اور بھی ہیں تو حصّہ رسد ،اور زکوٰۃ بھی ﷲعزوجل کا غنی پر فرض ہے حیلہ کرکے دو۲واجبوں میں ایک کو ساقط نہ کرے، ﷲعزّوجل دلوں کی نیت جانتا ہے، ہاں حقیقۃً قدرت نہ ہو تو حیلہ مذکورہ عمدہ وسیلہ ہے جس سے دونوں واجب ادا ہوسکیں وﷲیعلم المفسد من المصلح۱؎

(فتاوی رضویہ شریف ج۱۰ ص۲۶۹ مسئلہ نمبر ۱۲۱)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیر محمد اشفاق عطاری

23/04/2022 بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے