مزار کی چھت پر نماز پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہء ذیل میں کہ کیا جمعہ کے دن جگہ قلت کی وجہ سے نماز مزار کی چھت پر پڑھ سکتے ہیں جو مسجد سے متصل ہے اور کیا اس چھت پر بلا ضرورت جاسکتے ہیں؟ المستفی محمد معصوم علی بندکی

       جواب

مسجد میں موجود امام کی اقتداء میں، جگہ کی قلت کی وجہ سے (کہ یہ ضرورت شدیدہ ہے،) اس سے متصل مزار کی چھت پر بلا کراہت جائر ہے. اس چھت پر بلا ضرورت جا سکتے ہیں کیونکہ یہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے. مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے یہ حکم تب ہے جب مسجد کی نچلی جگہ پُر نہ ہوئی اس لیے کہ اس میں مسجد کی بے ادبی ہے اور یہی حال مسجد سے متصل مزار کی چھت کا نہیں ہوتا. لہذا اگر مسجد متصل نہ ہو تو اس با جماعت نماز جائز ہے. اکیلے نماز پڑھے تب بھی کراہت نہیں کہ یہ گھر کی چھت پر نماز پڑھنے جیسا ہے
جیسا کہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ اب یہ ایک مکان ہوگیا جس کے اندر قبر ہے، اب اس کی چھت پر اور اسی کی دیوار کی طرف ہر طرح نماز جائز ہوگئی کہ یہ نماز قبر پر یا قبر کی طرف نہ رہی بلکہ ایک مکان کی چھت پر یا اس کی دیوار کی جانب ہوئی اور اس میں حرج نہیں

(فتاوی رضویہ، ١١٥/٨)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی

گوندی ممبئی مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے