5.09.2022

جمعہ کے بعد احتیاطاً ظہر پڑھنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  ہم پہلے چار سنت بعد میں خطبہ، دو فرض جمعہ کے جماعت کے ساتھ اس کے بعد چار سنت پھر دو سنت موکدہ اور دو نفل بچپن سے پڑھ رہے ہیں لیکن آج ایک علامہ صاحب نے بتایا ہے کہ جماعت کے دو فرض کےب عد چار رکعت احتیاطی ظہر ہوتی ہیں جو کہ ظہر کے فرض لوٹانے کے مترادف ہے جناب کی اس بارے میں کیا آرا ہے تاکہ ہم اپنی نماز ٹھیک کر سکیں المستفی محمد فرید احمد

       جواب

جن علاقوں میں نماز جمعہ جائز ہونے نہ ہونے میں اختلاف ہے یا جہاں ایک سے زیادہ جگہ جمعہ ہوتا ہے، وہاں کے لوگوں کے لیے چار رکعت احتیاطی ظہر ہے. وہ علاقے جہاں جمعہ ادا کی جاتی ہے لیکن اس کا شرعا شہر نہ ہونا ثابت ہے، وہا‍ں نماز ظہر پڑھنا فرض ہے جمعہ ان پر فرض نہیں. لیکن عادیوں کو ترک جمعہ پر عامل نہیں کرایا جائے. فی زمانہ احتیاطا ظہر پڑھنے کا حکم صرف خواص کے لیے ہے کیونکہ عام عوام اس کی ادائیگی کے سبب تذبذب کے شکار اور بعض اوقات گمراہ ہوجاتے ہیں. لہذا ایسے علاقوں میں عقلاء احتیاطی ظہر اپنے گھر ادا کریں اور جہلاء کو اس کی ترغیب سے بچیں بلا شبہ جو اسلامی مصر ہو اور وہاں ایک ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو وہاں احتیاطی ظہر پڑھنا ممنوع وبدعت ہے مگر یہ بات آج عامہ بلاد میں کہیں نہیں سوا بعض بلاد کے، یونہی جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو جس نے سب سے اول جماعت میں پڑھا اسے احتیاطی ظہر کی اجازت نہیں، اور جہاں مصریت میں شبہہ ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور اپنی جماعت سب سے پہلے ہونا معلوم نہیں وہاں اگر شبہہ ضعیف ہے احتیاطی ظہر مستحب ہے اور قوی ہے تو واجب، مگر اس کا حکم خواص کے لئے ہے عوام کو حاجت نہیں تحملا للضرر الأدنى مخافة الأقوى. ملتقطا

(فتاوی رضویہ، ٣٩٩/٨)
عالمگیری میں ہے في كل موضع وقع الشك في جواز الجمعة لوقوع الشك في المصر أو غيره وأقام أهله الجمعة ينبغي أن يصلوا بعد الجمعة أربع ركعات وينووا بها الظهر حتى لو لم تقع الجمعة موقعها يخرج عن عهدة فرض الوقت بيقين، كذا في الكافي، وهكذا في المحيط ثم اختلفوا في نيتها قيل: ينوي آخر ظهر عليه وهو الأحسن والأحوط أن يقول: نويت آخر ظهر أدركت وقته ولم أصله بعد، كذا في القنية. وفي فتاوى آهو ينبغي أن يقرأ الفاتحة والسورة في الأربع التي يصلي بعد الجمعة وفي ديارنا، كذا في التتارخانية (فتاوی الهندیة، ١٦٠/١ ہر وہ مقام جہاں پر جمعہ ہونے یا نہ ہونے میں شک کی وجہ سے جوازِ جمعہ میں شک ہوجائے وہاں جمعہ کے بعد چار رکعات بہ نیت ظہر ادا کی جائیں تا کہ اگر جمعہ نہ ہوا تو وقتی فرض کی ادائیگی بالیقین ہوسکے، یہ الکافی میں ہے، اور محیط میں بھی اسی طرح ہے ، پھر ان رکعات کی نیت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ وہ ارادہ کرے کہ وہ اپنے ذمے کی آخری ظہر ادا کر رہا ہے اور یہی احسن ہے، اور احوط یہ ہے کہ یوں ارادہ کرے میں آخری ظہر پڑھ رہا ہوں جس کا وقت میں نے پایا اور اسے ابھی تک ادا نہیں کیا
جیسا کہ قنیہ میں ہے اور فتاوٰی آہو میں ہے کہ ہمارے علاقے میں جمعہ کے بعد جو چار رکعات پڑھی جاتی ہے ان میں فاتحہ اور سورت پڑھنی چاہئے ج
جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے) مراقی الفلاح میں ہے وبفعل الأربع مفسدة اعتقاد الجهلة عدم فرض الجمعة أو تعدد المفروض في وقتها ولا يفتى بالأربع إلا للخواص ويكون فعلهم إياها في منازلهم (مراقي الفلاح، ص١٩١ ان چار رکعات کی ادائیگی جاہل لوگوں کے اعتقاد میں فساد برپا کرے گی کہ جمعہ فرض ہے یا نہیں، یا ایک ہی وقت میں متعدد فرائض ہوسکتے ہیں، لہذا چار رکعات ظہر کا فتوی صرف خواص کے لئے ہے اور ان کا احتیاطی ظہر پڑھنا بھی اپنے گھروں میں ہوگا) ج
الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ ایسی تصحیح نیت نرے جاہلوں کو ذرا دشوار ہے اور ان سے یہ بھی اندیشہ کہ اس کے سبب کہیں یہ نہ جاننے لگیں کہ جمعہ سرے سے خدا کے فرضوں میں ہی نہیں، سمجھنے لگیں کہ جمعہ کے دن دوہرے فرض ہیں دو رکعتیں الگ چار الگ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان رکعتوں کا حکم نہ دیا جائے ان کے حق میں یہی بہت ہے کہ بعض روایات پر اُن کی نماز ٹھیک ہوجائے انھیں ایسی احتیاط کی حاجت نہیں، ہاں خواص یعنی جو لوگ اس طرح کی نیت کر سکتے ہوں اور اُن سے وہ اندیشے نہ ہوں وہ یہ احتیاط بجا لائیں تا کہ یقینا فرض خدا ادا ہوجائے اور شبہ واحتمال کی گنجائش نہ رہے سائل کا نام (فتاوی رضویہ، ٢٩٤/٨). واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی

گونڈی ممبئی مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only