ایسے جانور کی قربانی کرنا جو بخار اترنے کے بعد بھی چارہ نہ کھاتا ہو

Gumbade AalaHazrat

سوال
  جانور کو تین چار دن پہلے بخار آیا تھا. ابھی بخار نہیں ہے لیکن اس نے تب سے ہی کھانا پینا بند کر دیا ہے. کیا اس کی قربانی ہوگی؟ المستفی محمد جنید احمد

       جواب

اس کی بیماری ظاہر ہے لہذا قربانی جائز نہ ہوگی. براء ابن عازب رضی الله تعالى عنہ راوی، رسول الله ﷺ سے پوچھا گیا کہ کن قربانیوں سے بچنا چاہیے تو اپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا، چار وقال: العرجاء البين ظلعها، والعوراء البين عورها، والمريضة البين مرضها، والعجفاء التي لا تنقي

(موطا الملك روایة الشیبانی، م: ٦٣٣؛ سنن النسائی م: ٤٣٦٩، ٤٣٧٠، ٤٣٧١؛ سنن أبی داود، م: ٢٨٠٢؛ سنن ابن ماجه، م: ٣١٤٤؛ )
لنگڑے سے جس کا لنگ ظاہر ہو، کانے سے جس کانا پن ظاہر ہو، بیمار سے جس کی بیماری ظاہر ہو اور دبلے سے جو ہڈی میں سپنگ نہ رکھتا ہو
قال الإمام نعیمی رحمه الله تعالی ورحمنا به یعنی وہ لنگڑا جانور جو قربانی گاہ تک نہ جاسکے اور وہ کانا جس کی ایک آنکھ کی روشنی بالکل جاتی رہی ہو اس سےکم لنگ اور ایک آنکھ میں معمولی پھلی وغیرہ کا ہونا مضر نہیں. مرض ظاہر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ چارہ نہ کھائے اور سپنگ (ہڈیوں میں مغز) نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ دبلے پن کی وجہ سے کھڑی نہ ہوسکے. اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قربانی کے اندرونی عیب جو محسوس نہ ہوں مضر نہیں
فقہاء فرماتے ہیں کہ دیوانہ جانور جس کی دیوانگی ظاہر ہو اس کی قربانی نہ کی جائے (مرأة المناجیح، ٣٧٣/٢) یعنی وہ جانور جس کی دیوانگی اس حد تک پہنچی ہو کہ چارہ وغیرہ کھانے سے مانع ہو
قال الإمام الکاسانی وتجوز الثولاء وهي المجنونة إلا إذا كان ذلك يمنعها عن الرعي والاعتلاف فلا تجوز لأنه يفضي إلى هلاكها فكان عيبا فاحشا (بدائع الصنائع، ٣١٥/٦). لا تجوز المریضۃ البین مرضھا (عالمگیری،ج۵،ص۲۹۷) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی

گونڈوی ممبئی مہاراشٹر انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے