بڑے جانور میں دو حصے بڑھ جائے تو اسکا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  مفتیانِ کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ دو لڑکا ایک لڑکی ہی. عقیقہ کے لیے بڑے جانور میں پانچ حصہ ہوا دو حصہ بچ گیا تو دو حصہ کس کےنام سے ہوگا؟ المستفی محمد علی ساکی ناکہ ممبئی

       جواب

بڑے جانور میں ایک سے سات کا عقیقہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ کوئی حصہ اس جانور کا غیر قربت کے لیے نہ ہو. اگر کوئی حصہ بلکہ ایک حصہ سے بھی کم غیر قربت میں لگا دیا مثلا ایک حصہ اپنے لیے رکھ لیا تو عقیقہ نہ ہوا. ہاں اگر تمام حصے قربت کے ہوں، مثلا سات میں کچھ حصے عقیقہ کے لیے یا کچھ قربانی کے لیے یا سارے حصے عقیقہ کے لیے تو جائز ہے لہذا اگر قربانی ساتھ نہیں کرنی نہ گھر میں کسی کا عقیقہ بچا ہو تو ان سات حصوں کو دو لڑکے اور ایک لڑکی پر اس طرح منقسم کر دیں کہ تین تین حصے دونوں لڑکوں کے اور ایک حصہ لڑکی کا یا تین ایک لڑکے کا، دو دوسرے لڑکے اور دو لڑکی کا

بحوالہ کتب فقہ و فتاویٰ
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی

گونڈوی مہاراشٹر ممبئی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے