کیا دعوت اسلامی مسلک اعلیٰ حضرت کے مبلغ نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  آج کے دور میں اکثر علمائے پاکستان اور بھارت کے کچھ مقررین فاروق خان رضوی وغیرہ، ویڈیو بنوا کر بیانات کرتے ہیں۔ جو لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں ان پر کیا حکم ہے؟ خصوصا دعوت اسلامی کا اس بات پر بہت مشدد طریقہ سے رد کیا جاتا ہے اور”مسلک اعلیحضرت کے مبلغ نہیں“ کا فتوی دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟ المستفی محمد علی شیخ

       جواب

مخالفت ایک حد تک جائز ہے اور وہ حد یہ ہے کہ مخالف کو بدعتی، گناہگار، کافر وغیرہ نہ قرار دیا جائے۔ جن کا تشدد اس سے آگے بڑھا تو ان کے فتوے ان کے لیے آزمائش کا سبب ہیں۔ مسلک اعلی حضرت کا دارومدار قطعی عقائد پر ہے لہذا اگر کوئی نام کا دیوبندی بھی قطعی عقائد میں ہم جیسا ہوتو وہ بھی مسلک اعلی حضرت کا حصہ ہے اگرچہ وہ نہ مانے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ”دعوت اسلامی والے مسلک اعلیحضرت کے مبلغ نہیں“ بڑی زیادتی کرتے ہیں۔ زیادتی کے سبب انہیں سنیت سے خارج نہیں قرار دیا جاسکتا ہے لیکن وہ ضرور خسارے میں ہیں اور کیے کا بدلہ تو اللہ کے پاس ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابن علیم المصبور الرضوی العینی

گونڈوی مہاراشٹر ممبئی انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے