8.04.2022

حلالہ کے لئے مدت کی شرط ہے یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام مسئلۂ ذیل میں کہ حلالہ کے لیے مدت کی شرط ہے یا نہیں اگر مدت کی شرط ہے تو کتنی ہے ❓ المستفی ظفراللہ رضوی

       جواب

جی ہاں حلالہ کے لئے مدت شرط شرط ہے اور اس کی مدت شوہر اول کے فسخ نکاح کی عدت ہے یعنی عدت کے ایام گزار کر حلالہ کرے اور بعد حلالہ محلل کی عدت گزار کر شوہر اول سے نکاح کرے اور عدت کی کی مدت تین ماہواری ہے ان کے لیے جن عورتوں کو ماہواری آتی ہو
جیسا کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء ولا یحل لہن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ و الیوم الآخر طلاق والیاں اپنے کو تین حیض روکے رہیں اور انہیں یہ حلال نہیں کہ جو کچھ خدا نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا اسے چھپائیں؛ اگر وہ اللہ عز و جل اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں

سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۲۸
اور بہار شریعت میں ہے عورت کو طلاق دی؛ بائن یا رجعی یا کسی طرح نکاح فسخ ہو گیا ؛ اگرچہ یوں کہ شوہر کے بیٹے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا اور ان صورتوں میں دخول ہو چکا ہو یا خلوت ہوئی ہو اور اس وقت حمل نہ ہو اور عورت کو حیض آتا ہے تو عدت پورے تین حیض ہے جب کہ عورت آزاد ہو اور باندی ہو تو دوحیض اور اگر عورت ام ولد ہے اس کے مولا کا انتقال ہوگیا یا اس نے آزاد کر دیا تو اس کی عدت بھی تین حیض ہے۔ اھ بہار شریعت جلد ۲ حصہ نمبر ۸ صفحہ نمبر ۲۳۴ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ اور وہ عورتیں جن کو حیض نہیں آتا کم سنی کی وجہ سے یا سن ایاس کو پہنچنے کی بنیاد پر تو انکی عدت تین مہینے ہے اور وہ جو حاملہ ہوں ان کی عدت وضع حمل ہے
جیسا کہ باری تعالی کا فرمان ہے والّٰئ یئسن من المحیض من نسائکم ان ارتبتم فعدتہن ثلاثۃ اشہر والّٰئ لم یحضن واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہو گئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو انکی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا ہے؛ اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں سورہ طلاق آیت نمبر ۴
اور بہار شریعت میں ہے ان صورتوں (یعنی طلاق بائن یا رجعی یا کسی طرح فسخ نکاح) میں اگر عورت کو حیض نہیں آتا ہے کہ ابھی ایسے سن کو نہیں پہنچی یاسن ایاس کو پہنچ چکی ہے یا عمر کے حساب بالغہ ہو چکی ہے مگر ابھی حیض نہیں آیا ہے تو عدت تین مہینے ہے۔ عورت حامل ہے تو عدت وضع حمل ہے عورت حرہ ہو یا کنیز مسلمہ ہو یا کتابیہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی یا متارکہ یا وطی بالشبہ کی حمل ثابت النسب ہو یا زنا کا مثلا زانیہ حاملہ سے نکاح کیا اور شوہر مر گیا یا وطی کے بعد طلاق دی تو عدت وضع حمل ہے ۔ اھ بہار شریعت جلد ۲ حصہ نمبر ۸ صفحہ نمبر ۲۳۴/۲۳۸ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ لھذا اگر عورت طلاق مغلظہ کے بعد شوہر اول کے نکاح میں آنے کی خواہشمند ہو تو حلالہ کرے اور حلالہ کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ شوہراول کی عدت گزارے بعدہ حلالہ پھر محلل کی طلاق کی عدت گزار کر شوہر اول سے نکاح
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهُ پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے سورہ بقرہ آیت ۲۳۰ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابوعبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

مقام خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only