باپ کی زمین پر بیٹی کا بھی حق ہے یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا دو لڑکا اور ایک لڑکی ہے باپ نے ایک زمین خریدی اور اس زمین کو دونوں بیٹوں کے نام سے کردیا جو لڑکی تھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے اور باپ کا انتقال ہوگیا ہے اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے زمین پر لڑکی کا حصہ ہوگا کہ نہیں اور اگر لڑکی کی شادی ہوگئی ہے تو اب اس کے لئے اس زمین کے تعلق سے کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں بہت مہربانی ہوگی المستفی (سائل فقیر قادری ناچیز محمد مسعود عالم رحمانی مقام بھیلوا خطیب و امام مدینہ مسجد کھجوریا ضلع بانکا بہار)

       جواب

صورت مستفسرہ میں اگر اس نے وہ زمین اپنے بیٹوں کےنام انکےقبل بلوغ کی ہے یا بالغ ہونےکے بعد انکے نام وہ زمین کی ہے اور انہیں تصرف کا حق بھی دے دیا ہے یا انہوں نے اس زمین پر قبضہ بھی کر لیا تواب اس زمین کےمالک شخص مذکور کے دونوں بیٹے ہوگئے نہ کہ خود وہ اس زمین کا مالک رہا کیونکہ اس نے وہ زمین اپنے بیٹوں کے نام کرکے اور انہیں حق تصرف دیکر اس زمین کا مالک اپنے بیٹوں کو بنادیا بنا بریں اسکی بیٹی اس زمین سے کچھ نہ پاۓگی اور اگر اسکے دونوں بیٹے بالغ ہیں اور بلوغ کی حالت میں اس نے وہ زمین ان کے نام کردی مگر حق تصرف نہ دیا اور نہ ہی تملیک کی طرف کوئی اشارہ ہے تو ایسی صورت میں اس زمین کا مالک اب بھی وہی شخص مذکور ہے محض انکے نام کر دینے سے انکی ملکیت ثابت نہ ہوگی اب اسی حال میں وہ فوت کر جائے تو اس زمین سے اسکی بیٹی بھی حصہ پائے گی
جیساکہ شامی میں ہے ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم
اس کے تحت رد المحتار میں ہے (لولدہ)ای الصغیر واما الکبیر فلا بد من التسلیم کما فی

جامع الفتاوی (ج۸ص٥٨٣ دار المعرفۃ بیروت)
اور سیدی سرکار مجدد اعظم حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں صورت مستفسرہ میں اگر عمرو اس وقت نابالغ تھاتو ہر طرح وہ مکان ملک عمرو ہو گیا اور اگر بالغ تھا تو زید مشتری اور بائع مکان کے باہم عقد بیع و شراء میں جو لفظ زبان پر آئے ان پر نظر کی جائیگی اگر ان میں عمرو کیطرف اضافت عقد تھی مثلا بائع نے کہا میں نے یہ مکان تیرے بیٹے عمرو کے ہاتھ بیچا زید نے کہا میں نے اس کے لئے خریدا یا اس کے جواب میں اتنا ہی کہا کہ میں نے خریدا یا زید نے کہایہ مکان میں نے اپنے بیٹے عمرو کے لئے خریدکیا بائع نے کہا میں نے عمرو کے ہاتھ بیچا یا اسی قدر کہا کہ میں نے بیچا تو اس صورت میں یہ شرائے فضولی ہوا اور اجازت عمرو پر موقوف رہا اگر اس نے اجازت دی مکان ابتداء ملک عمرو ہوا اور اسی کے ورثہ پر تقسیم ہوگا اور اگر پیش از اجازت مر گیا بیع باطل ہوکر مکان ملک بائع پر رہا اور اگر لفظوں میں عمرو کیطرف اضافت نہ تھی اگرچہ قبالہ میں عمرو ہی کے ہاتھ بیچنا لکھا ہو تو یہ شراء زید کے لئے واقع اور زید ہی اس کا مالک ہوا اب بعد اسکے جبکہ تحریر قبالہ وغیرہا کارروائیاں بنام عمرو کر آئیں تو یہ بحکم عرف شائع کیطرف سے عمرو کے لئے ہبہ ہوا پس اگر عمرو نے بر بنائے ہبہ قبضہ کاملہ پا لیا تھا تو مکان ملک عمرو ہو گیا اسکے ورثہ پر تقسیم ہوگا ورنہ ملک زید پر باقی ہے وارثان عمرو کا اس پر کوئی حق نہیں (فتاوی رضویہ ملخصا ج ۱۹ ص٢١٤-٢١٧ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
رضویہ شریف کے مذکورہ فتویٰ میں تین صورتیں ذکر کی گئی ہیں ١-زمین بیٹوں کے نام کرتے وقت بیٹے نابالغ تھے اس صورت میں اس زمین کے مالک بیٹے ہی ہونگے لہذا بیٹی کو اس زمین سے حصہ نہ ملیگا ٢-دوسری صورت یہ کہ زمین نام کرتے وقت بیٹے بالغ تھے اور باپ نے بیٹوں کی جانب تملیک کی اضافت کی اور بیٹوں نے اس کی اجازت بھی دے دی اس صورت میں بھی بیٹی حقدار نہ ہوگی کہ اب اس زمین کے مالک بیٹے ہو گئے باپ مالک نہ رہا اور اگر بیٹوں نے اجازت نہ دی تو یہ بیع ہی باطل ہوگئ ٣- اور تیسری صورت یہ کہ زمین بیٹوں کے صرف نام کی ہے انہیں تصرف کا حق نہیں دیا ہے اور نہ ہی کسی طرح مالک بنایا ہے تو اب ایسی صورت میں حقیقتاً اس زمین کا مالک باپ ہی ہے بیٹے نہیں لہذا اس صورت میں بیٹی بھی حقدار ہوگی واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

مقامدھانگڑھا،کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے