دور حاضر میں پیدل حج کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس وقت پیدل حج پر جانا کیسا برائے کرم جلد جواب سے نوازیں آپ کی بہت مہربانی ہو گی المستفی محمد ذیشان جاوید قادری رضوی کولکاتا

       جواب

جی بالکل جا سکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ پیدل حج کرنے والے کے ہر ایک قدم پر 700 نیکیاں لکھی جاتی ہیں
جیسا کہ درالمختار جلد 03 صفحہ نمبر 526 پر ہے کہ پیدل کی طاقت ہو تو پیدل حج کرنا افضل ہے حدیث میں ہے جو پیدل حج کرے اُس کے لیے ہر قدم پر سات سو 700 نیکیاں ہیں (بحوالہ ردالمحتار کتاب الحج مطلب فیمن حج بمال حرام جلد 03 صفحہ نمبر 526) اور حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ جیسا کہ فقیہ اعظم ہند صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں پیدل کی طاقت ہو تو پیدل حج کرنا افضل ہے۔ حدیث میں ہے جو پیدل حج کرے، اُس کے لیے ہر قدم پر سات سو 700 نیکیاں ہیں بحوالہ بہار شریعت جلد 01 صفحہ نمبر 1036 مطبوعہ المدینۃ لاہور کراچی)
اور تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے مکہ سے پیدل حج شروع کیا حتّٰی کہ (حج مکمل کرکے) مکہ لوٹ آیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں لکھے گا عرض کی گئی حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں

( مستدرک اول کتاب المناسک فضیلۃ الحجّ ماشیاً 02 / 114 الحدیث 1735) (بحوالہ تفسیر صراط الجنان سورۃ الحج آیت نمبر 28)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

مقام خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے