فاتحہ خوانی کا پیسہ کسی اور کام میں صرف کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسٸلہ ذیل میں کہ محرم الحرام یا ربیع الاول شریف کے موقع پر مسجدوں میں فاتحہ خوانی کے لیے جو چندہ ہوتا ہے اس کے بچے ہوۓ پیسوں کو مسجد کے کسی کام میں استعمال کرسکتے ہیں معتبر حوالہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماءیں نوازش ہو گی المستفی عبدالرشید قادری بنارس

       جواب

چندہ جس مقصد کےتحت لیا جاۓاسکو اسی مقصد میں صرف کیاجاۓ! دوسرےکسی کام میں صرف کرناجاٸز نہیں! لہذاصورت مسٶلہ میں وہ چندہ فاتحہ خوانی کا ہے اسکو فاتحہ خوانی کےلیے ہی خرچ کیاجاۓگا! مسجد وغیرہ کے کسی کام میں خرچ نہیں کرسکتے! ہاں اگر چندہ دینے والے اجازت دےدیں کہ بچی ہوٸی رقم مسجد میں خرچ کردو تو خرچ کرنےمیں کوٸی حرج نہیں! اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو بچی ہوٸی رقم انکو واپس کرنا ضروری ہے جیساکہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ایسے چندوں سے جو فاضل بچے وہ چندہ دہندگان کا ہے انہیں کی طرف رجوع لازم ہے وہ دیگ وغیرہ جس امر کی اجازت دیں وہی کیا جاۓ

{فتاوی رضویہ جلد٦ ص٣٣٩}
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبـــــہ عبیـــداللّٰه حنفــی بریلوی

مقـام دھــونرہ ٹانڈہ ضـــلع بریلی شــریف {یوپی} ٩صفرالمظفر ٤٤٤١؁ھ بروز بدھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے