لوہے اور لکڑی کے دروازے کو پاک کرنے کا طریقہ

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین اس مسئلہ میں کہ لکڑی لوہے وغیرہ کے دروازے کھڑکی وغیرہ پر نجاست لگ جاۓ تو کیا سوکھنے سے پاک ہو جائیں گے یا دھونا لازم ہوگا المستفی حافظ عبدالمالک یاقوت گنج فرخ آباد یوپی

       جواب

دروازے کھڑکی وغیرہ خواہ لکڑی کے ہوں یا لوہے کے یا اور کسی دھات کے سوکھنے سے پاک نہ ہوں گے جبکہ دیوار میں لگے ہوے نہ ہوں۔ پس اگر دروازے لکڑی کے ہوں اور اس پر پالش ہو تو کپڑے یا پتے سے اس قدر پوچھ دیں کہ نجاست کا اثر بالکل ختم ہوجاے پاک ہو جائیں گے کہ اس میں مسام نہیں ہوتے لہذا نجاست اندر سرایت نہ کرے گی تو دھلنا بھی لازم نہ ہوگا ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﻤﺴﺢ ﺇﺫا ﻭﻗﻊ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺪﻳﺪ اﻟﺼﻘﻴﻞ اﻟﻐﻴﺮ اﻟﺨﺸﻦ ﻛﺎﻟﺴﻴﻒ ﻭاﻟﺴﻜﻴﻦ ﻭاﻟﻤﺮﺁﺓ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ ﻧﺠﺎﺳﺔ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺃﻥ ﻳﻤﻮﻩ ﺑﻬﺎ ﻓﻜﻤﺎ ﻳﻄﻬﺮ ﺑﺎﻟﻐﺴﻞ ﻳﻄﻬﺮ ﺑﺎﻟﻤﺴﺢ ﺑﺨﺮﻗﺔ ﻃﺎﻫﺮﺓ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻻ ﻓﺮﻕ ﺑﻴﻦ اﻟﺮﻃﺐ ﻭاﻟﻴﺎﺑﺲ ﻭﻻ ﺑﻴﻦ ﻣﺎ ﻟﻪ ﺟﺮﻡ ﻭﻣﺎ ﻻ ﺟﺮﻡ ﻟﻪ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ ﻭﻫﻮ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻟﻠﻔﺘﻮﻯ

(جلد ٠١ صفحہ ٤٣)
آئینہ اور شیشے کی تمام چیزیں اور چینی کے برتن یا مٹی کے روغنی برتن یا پالش کی ہوئی لکڑی غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں کپڑے یا پَتّے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ اثر بالکل جاتا رہے پاک ہو جاتی ہیں (ح٢، ص٤٠٠)۔ اور اگر پالش نہ ہو تو اسے تین بار دھلیں اور ہر بار اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا بند ہوجاے کہ اس میں مسام ہوتے ہیں لہذا نجاست اندر سرایت کر جاے گی اور اس کا نچوڑنا بھی ممکن نہیں اسلئے ہر بار دھل کر اتنی دیر تک رکنا لازم ہوگا کہ پانی ٹپکنا بند ہوجاے
بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے ﻗﻮﻟﻪ و ﺑﺘﺜﻠﻴﺚ اﻟﺠﻔﺎﻑ ﻓﻴﻤﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﺃﻱ ﻣﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻓﻄﻬﺎﺭﺗﻪ ﻏﺴﻠﻪ ﺛﻼﺛﺎ ﻭﺗﺠﻔﻴﻔﻪ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻣﺮﺓ ﻷﻥ ﻟﻠﺘﺠﻔﻴﻒ ﺃﺛﺮا ﻓﻲ اﺳﺘﺨﺮاﺝ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﻭﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﺘﺮﻛﻪ ﺣﺘﻰ ﻳﻨﻘﻄﻊ اﻟﺘﻘﺎﻃﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﻓﻴﻪ اﻟﻴﺒﺲ (ج١،ص٤١٣)۔ اور اگر دروازے لوہے یا کسی اور دھات کے ہوں تو فقط تین بار دھل دیں پاک ہوجائیں گے اس میں اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا بند ہوجاے کہ اس میں نجاست جذب نہیں ہوتی اسلئے ہر بار اتنی دیر تک رکنا بھی لازم نہ ہوگا کہ پانی ٹپکنا بند ہوجاے
بحر میں ہے وان ﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺪ ﺃﻭ ﺻﻔﺮ ﺃﻭ ﺯﺟﺎﺝ ﺃﻭ ﺭﺻﺎﺹ ﻭﻛﺎﻥ ﺻﻘﻴﻼ ﻳﻤﺴﺢ، ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺧﺸﻨﺎ ﻳﻐﺴﻞ (ج١، ص٤١٤)۔ اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نَجاست جذب نہ ہو ئی جیسے چینی کے برتن یا مٹی کا پرانا استعمالی چکنا برتن یا لوہے تانبے پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے (ح٢،ص٣٩٩) اور اگر دیوار میں لگے ہوں کہ ان کا جدا کرنا بلا نقصان ممکن نہیں تو وہ سوکھنے سے پاک ہوائیں گے دھلنا لازم نہیں
ہندیہ میں ہے ﻭﻣﻨﻬﺎ اﻟﺠﻔﺎﻑ ﻭﺯﻭاﻝ اﻷﺛﺮ اﻷﺭﺽ ﺗﻄﻬﺮ ﺑﺎﻟﻴﺒﺲ ﻭﺫﻫﺎﺏ اﻷﺛﺮ ﻟﻠﺼﻼﺓ ﻻ ﻟﻠﺘﻴﻤﻢ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﻜﺎﻓﻲ ﻭﻻ ﻓﺮﻕ ﺑﻴﻦ اﻟﺠﻔﺎﻑ ﺑﺎﻟﺸﻤﺲ ﻭاﻟﻨﺎﺭ ﻭاﻟﺮﻳﺢ ﻭاﻟﻈﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺒﺤﺮ اﻟﺮاﺋﻖ ﻭﻳﺸﺎﺭﻙ اﻷﺭﺽ ﻓﻲ ﺣﻜﻤﻬﺎ ﻛﻞ ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﺛﺎﺑﺘﺎ ﻓﻴﻬﺎ ﻛﺎﻟﺤﻴﻄﺎﻥ ﻭاﻷﺷﺠﺎﺭ ﻭاﻟﻜﻸ ﻭاﻟﻘﺼﺐ ﻣﺎ ﺩاﻡ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻓﺈﺫا اﻧﻘﻄﻊ اﻟﺤﺸﻴﺶ ﻭاﻟﺨﺸﺐ ﻭاﻟﻘﺼﺐ ﻭﺃﺻﺎﺑﺘﻪ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﻻ ﻳﻄﻬﺮ ﺇﻻ ﺑﺎﻟﻐﺴﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺠﻮﻫﺮﺓ اﻟﻨﻴﺮﺓ۔ اﻵﺟﺮﺓ ﺇﺫا ﻛﺎﻧﺖ ﻣﻔﺮﻭﺷﺔ ﻓﺤﻜﻤﻬﺎ ﺣﻜﻢ اﻷﺭﺽ ﺗﻄﻬﺮ ﺑﺎﻟﺠﻔﺎﻑ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ﺗﻨﻘﻞ ﻭﺗﺤﻮﻝ ﻻ ﺑﺪ ﻣﻦ اﻟﻐﺴﻞ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻛﺬا اﻟﺤﺠﺮ ﻭاﻟﻠﺒﻨﺔ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ ﻣﻨﻴﺔ اﻟﻤﺼﻠﻲ (ج١،ص٤٤)
بہار شریعت میں ہے درخت اور گھاس اور دیوار اور ایسی اینٹ جو زمین میں جڑی ہو یہ سب خشک ہو جانے سے پاک ہو گئے اور اگر اینٹ جڑی ہوئی نہ ہو تو خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی بلکہ دھونا ضروری ہے یوہیں درخت یا گھاس سوکھنے کے پیشتر کاٹ لیں تو طہارت کے لیے دھونا ضروری ہے۔ اگر پتھر ایسا ہو جو زمین سے جدا نہ ہو سکے تو خشک ہونے سے پاک ہے ورنہ دھونے کی ضرورت ہے (ح٢، ص٤٠١) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد المصباحی القادری

مقام ممبئی مہاراشٹر انڈیا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے