مسجد کے صدر کا درگا پوجا کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ ایک شخص ہے جو کی مسجد و مدرسہ کمیٹی کے صدر ہے اور قبرستان کمیٹی کے سکڑیٹری بھی ہے اور سیاسی پارٹی سے بھی منسلک ہے۔ انہوں نے کھلے عام آپنے زبان سے درگا پوجا میں کفریہ جملہ بھی کہا ہے اور مورتی کی پوجا بھی کی ہے۔ ایسے شخص پر شریعت میں کیا حکم ہے ؟ جواب عنایت فرماۓ۔ شکریہ المستفی مظفر حسین.....ہوڑہ بنگال

       جواب

اللّٰہ رب العزت نے ہمیں صرف اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے خداوند قدوس کے علاوہ کسی معبود باطل کی پرستش شرک ہے
چنانچہ رب کریم کا ارشاد پاک ہے وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ الخ (پ٣٠سورہ بینہ آیت ٥) یعنی اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر۔ (کنزالایمان)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا عربی عبارت وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدا لا الہ الا ھو سبحانہ عما یشرکون (پ١٠سورہ توبہ آیت ٣١) یعنی اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے پاکی ہے انکے شرک سے ( کنزالایمان) معلوم ہوا کہ غیر خدا کی پوجا کرنے سے آدمی مشرک ہو جاتا ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں ایک رب کی پرستش کا حکم دیا گیا ہے اور خدائے واحد کے علاوہ کسی کی کی پوجا کرنے کو شرک کہا گیا ہے یونہی کلمہ کفر بولنے سے بھی آدمی اسلام سے خارج ہو جاتاہے
حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں بلاشبہ کلمہ کفر بکنے والے پر توبہ توبہ وتجدید ایمان و نکاح کا حکم لازم ہے اس لئے کہ کلمہ کفر بکنے کے بعد آدمی اسلام سے خارج ہوکر کافر ہو جاتاہے اھ حوالہ (فتاوی شارح بخاری جلد ٢ص ٢٨٨) لہذا بر صدق مستفتی شخص مذکور کلمہ کفر بکنے اور مورتی پوجا کرنے سبب اسلام سے خارج ہوکر کافر و مرتد اور مشرک ہو گیا اسکی بیوی اسکے نکاح سے نکل گئ اور نہ ہی وہ کسی دینی و مذہبی منصب پر فائز رہ سکتا ہے مسلمانوں پر لازم و ضروری ہے اسے ان عہدوں سے بر طرف کر دیں اور توبہ وتجدید ایمان و نکاح کا مطالبہ کریں اگر وہ توبہ وتجدید ایمان و نکاح کرلیتاہے فبہا ورنہ مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں کیونکہ ایسا شخص اگر بغیر توبہ کے ہی مر جائے تو نہ اسکی نماز جنازہ پڑھنی جائز اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا درست
جیسا کہ رب احکم الحاکمین نے ارشاد فرمایا ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وہم فاسقون (پ ١٠سورہ توبہ آیت ٨٤) یعنی اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اسکی قبر پر کھڑے ہونا بےشک وہ اللہ ورسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مرگئے (کنزالایمان)

ایسا ہی فتاوی شارح بخاری جلد دوم ص٥٩٦ میں بھی ہے
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

مقام دھانگڑھا کشن گنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے