زکوۃ کے پیسے سے میت کی چارپائی مسجد میں دینا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا حکم شریعت کا کہ زکوٰۃ کے پیسے سے میت کی چار پاءی خرید کر مسجد میں دینا کیسا علمائے کرام سے عرض ہے واضح فرمائیں المستفی محمد رئیس السبحانی

       جواب

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
ترجمہ زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل(وصول) کر کے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو (سورہ توبہ آیت ٦٠کنزالایمان) اسی لئے فقہائے کرام نے مصارف زکوٰۃ سات شمار فرمائے ہیں (١)فقیر (٢)مسکین۔ (٣) عامل (٤)رقاب (٥)غارم (٦) فی سبیل اللّٰہ (٧)اور ابن سبیل اور مال زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے تملیک بھی شرط ہے بنا بریں جس طرح زکوٰۃ کے مال سے میت کی تکفین جائز نہیں ہے اور نہ ہی زکوٰۃ کے مال سے میت کا قرض ادا کرنا درست ہے اسی طرح زکوٰۃ کے مال سے میت کے لئے چارپائی خرید کر مسجد میں دینا بھی ناجائز ہے
چنانچہ فتاویٰ عالمگیر میں ہے ولا یجوز ان یبنی بالزکاۃالمسجد وکذا القناطر والسقایات الی ان قال وکل مالا تملیک فیہ ولا یجوز ان یکفن بہا میت ولا یقضی بہا دین المیت کذا فی التبیین

(ج ۱ص١٨٨) ایسا ہی بہار شریعت ج ١ح٥ص٩٢٧ میں بھی ہے
لہذا زکوٰۃ کی رقم سے میت کے لئے چارپائی خرید کر مسجد میں دینا جائز نہیں ہے واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

دھانگڑھا کشن گنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے