گود لی ہوئی بیٹی کا وراثت میں حق ہے یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اور ایک گود لی ہوئی بیٹی اور دو حقیقی بیٹیاں ہیں تو اس کی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی براہ کرم شرع شریف کی روشنی میں جلد از جلد رہنمائی فرمائیں جواب کی اشد ضرورت ہے۔ بینوا توجروا المستفی شکیل احمد قاضی برکاتی مقام راجکوٹ گجرات الھند

       جواب

بعد تقدیم ما تقدم علی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین متوفی کے کل ترکہ کے ١٦ حصے ہوں گے جس میں سے دو بیوی کو اور سات سات دونوں لڑکیوں کو ملیں گے اور گود لی ہوئی لڑکی کا شرعا کچھ حصہ نہیں کہ گود لینا کوئی رشتہ نہیں البتہ وارث اپنی جانب سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں کچھ حرج نہیں
 جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے 
اﻟﺒﻨﺖ ﻭﻟﻬﺎ اﻟﻨﺼﻒ ﺇﺫا اﻧﻔﺮﺩﺕ ﻭﻟﻠﺒﻨﺘﻴﻦ ﻓﺼﺎﻋﺪا اﻟﺜﻠﺜﺎﻥ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻻﺧﺘﻴﺎﺭ ﺷﺮﺡ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ

(ج٦،ص٤٤٨)
اسی میں ہے ﻭﻟﻠﺰﻭﺟﺔ اﻟﺮﺑﻊ ﻋﻨﺪ ﻋﺪﻣﻬﻤﺎ ﻭاﻟﺜﻤﻦ ﻣﻊ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ" ای الولد او ولد الابن (ج٦،ص٤٥٠)
فتاوی رضویہ میں ہے شریعت میں متبنی کوئی چیز نہیں
قال اللہ تعالٰی وما جعل ادعیائکم ابنائکم اللہ تعالٰی نے فرمایا تمھارے نرے دعووں نے ان کو تمھارے بیٹے نہ بنادیا (القرآن الکریم ۳۳/ ۴)( ج١٩،ص٣٥٥،م١٢٦)- واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد قادری

مقام قنوج یو پی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ ڈگری حاصل کی جا رہی ہے...
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
لال سوئی خانہ کعبہ کی سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0