12.27.2022

گود لی ہوئی بیٹی کا وراثت میں حق ہے یا نہیں

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اور ایک گود لی ہوئی بیٹی اور دو حقیقی بیٹیاں ہیں تو اس کی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی براہ کرم شرع شریف کی روشنی میں جلد از جلد رہنمائی فرمائیں جواب کی اشد ضرورت ہے۔ بینوا توجروا المستفی شکیل احمد قاضی برکاتی مقام راجکوٹ گجرات الھند

       جواب

بعد تقدیم ما تقدم علی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین متوفی کے کل ترکہ کے ١٦ حصے ہوں گے جس میں سے دو بیوی کو اور سات سات دونوں لڑکیوں کو ملیں گے اور گود لی ہوئی لڑکی کا شرعا کچھ حصہ نہیں کہ گود لینا کوئی رشتہ نہیں البتہ وارث اپنی جانب سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں کچھ حرج نہیں
 جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے 
اﻟﺒﻨﺖ ﻭﻟﻬﺎ اﻟﻨﺼﻒ ﺇﺫا اﻧﻔﺮﺩﺕ ﻭﻟﻠﺒﻨﺘﻴﻦ ﻓﺼﺎﻋﺪا اﻟﺜﻠﺜﺎﻥ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻻﺧﺘﻴﺎﺭ ﺷﺮﺡ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ

(ج٦،ص٤٤٨)
اسی میں ہے ﻭﻟﻠﺰﻭﺟﺔ اﻟﺮﺑﻊ ﻋﻨﺪ ﻋﺪﻣﻬﻤﺎ ﻭاﻟﺜﻤﻦ ﻣﻊ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ" ای الولد او ولد الابن (ج٦،ص٤٥٠)
فتاوی رضویہ میں ہے شریعت میں متبنی کوئی چیز نہیں
قال اللہ تعالٰی وما جعل ادعیائکم ابنائکم اللہ تعالٰی نے فرمایا تمھارے نرے دعووں نے ان کو تمھارے بیٹے نہ بنادیا (القرآن الکریم ۳۳/ ۴)( ج١٩،ص٣٥٥،م١٢٦)- واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد قادری

مقام قنوج یو پی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only