غیر ولی کا عرس منانا کیسا


(سئل) مفتیان کرام کی بارگاہ میں عریضہ ہے کہ غیر ولی کی قبر پر چادر پوشی کرنا اور ان کا عرس منانا کیسا ہے؟

(فأجاب) غیر ولی کا عرس منانا منع ہے کیونکہ لوگ اس شخص کو ولی سمجھ لیں گے اسی طرح اس کی قبر پر چادر ڈالنا لیکن اس میں اس قدر حرج نہیں نہ کراہت ہے اور اگر قبر عام قبرستان میں ہو تو پہچان کے لیے ایک چادر ڈال سکتا ہے ولی کی قبر پر اگر ایک اچھی چادر موجود ہو تو اس پر دوسری چادر ڈالنا اسراف ہے اور اسراف جائز نہیں. ہاں، تبرک کی نیت سے چادر ڈال کر اٹھا لینا یہ مستحسن ہے. اور یہ معاملہ غیر ولی کے ساتھ نہیں ہوتا

کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0