تصویر جو حرام ہے تو یہ حرام قطعی ہے یا اجماعی حرام؟



(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کہ ویڈیو اور تصویر کہ جو حرام ہے تو یہ حرام قطعی ہے یا اجماعی حرام؟ اور جن کے نزدیک یہ ویڈیو اور موبائل فون سے بننے والا عکس تصوی ہے کیا یہ لوگ قطعی حرام کو حلال کررہے ہیں؟ اگر کررہے ہیں تو ان پر شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ اور اگر یہ اجماعی حرام کو حلال کررہے ہیں تو بھی ان پر شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ یا یہ مسئلہ فروعی ہے اس کی وضاحت فرمادیں

(جواب) مشہور فروعی مسئلہ اتنا ہے کہ شعاعی عکس (فوٹو) شرعا تصویر ہے یا نہیں ہے۔ اسے بنانا نہ قطعی حرام ہے نہ اجماعی۔ یہ ایک فریق کے نزدیک ناجائز ہے۔ پین پینسل سے تصویر بنانا بھی نہ مطلقا حرام قطعی نہ مطلقا حرام اجماعی۔ یہاں ایک فریق دوسرے فریق کو حرام کو حلال قرار دینے والا یا حلال کو حرام قرار دینے والا قرار نہیں دے سکتا جس طرح بعض چیزیں شوافع کے نزدیک حرام ہیں (مثلا متروک التسمیہ عمداً اور ضب) اور ہمارے نزدیک نہیں لیکن ہم شوافع کے بارے میں ایسا نہیں کہتے والله تعالی اعلم

 کتبہ ندیم العلیم ابن المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0