فرض کی دو خالی رکعت کی حکمت


(سئل) فرض نمازوں میں دو خالی دو بھری پڑھی جاتی ہے تو دو کے خالی ہونے میں کیا حکمت ہے ؟

(الجواب) یہ اس لیے کہ فرض کی چار رکعتیں ایک نماز ہے اور سنت ونفل کی چار رکعتوں میں ہر شفع (دو رکعت) الگ الگ نماز ہے لہذا چاروں میں قرأت فرض ہے قال الإمام عليه رحمة المنعام نماز میں صرف دو ہی رکعت میں تلاوت قرآن مجید ضرور ہے سنت ونفل کی ہر دو رکعت نماز جداگانہ ہے لہذا ہر دورکعت میں قرأت لازم ہو کر چاروں بھری ہو گئیں والله تعالی اعلم (فتاوی رضویہ ٣٣٤/٦)

قال الإمام السرخسی رحمة الله تعالی قال أبو حنيفة رحمه الله: كل شفع من التطوع صلاة على حدة ولهذا تفترض القراءة في كل ركعة من شفع عندنا کما تفرض من کل رکعة من الفجر (أصول السرخسی، ٩٩/١) والله تعالی اعلم

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا 

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0