📊 اسلامی معلومات گروپ ایک نظر میں

2326+
کل فتاویٰ
5000+
روزانہ زائرین
50+
فقہی ابواب
حنفی
مسلکِ اہل سنت

اپنے سوالات بھیجے

❓ شرعی سوال پوچھیں: نماز، روزہ، نکاح، طلاق اور دیگر مسائل کے لیے WhatsApp پر رابطہ کریں

انجکشن کے ذریعے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی کا حکم



مسئلہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ مصنوعی طریقے سے انجکشن کے ذریعے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ 


الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسؤلہ کا جواب یہ ہے کہ مصنوعی طریقے سے انجکشن کے ذریعے پیدا ہونے والے جانور اگر ان جانوروں کی شکل پر ہوں جن کی قربانی جائز ہے مثلا گائے بھینس بکری وغیرہ کی شکل و صورت جیسی پیدا ہو تو ان کی قربانی درست ہے 

بلکہ یہاں تک آیا ہے کہ اس میں مطلقا ماں کا اعتبار ہے

حاشیہ عالمگیری میں ہے 

قوله شاة ولدت الخ هذا مفرع على خلاف المعتمد من ان العبرة للأم مطلقا ( ج ٥ ص ٢٩٠ الباب الثالث في المتفرقات زكريا بكد فو ) 

اور بحر الرائق سے خاص صورت مسئولہ سے متعلق جزئیہ ملاحظہ کریں 

لما ذكرنا ان العبرة للأم الا ترى أن الذئب لو نزا على شاة فولدت ذئبا حل أكله و يجزئ في الأضحية ( ص ٢٣٥ كتاب الطهارة ج ١ مكتبة زكريا ) 

در شرح غرر میں ہے 

لما ذكر ان العبرة للأم الا يرى أن الذئب لو نزا على شاة فولدت ذئبا حل أكله و يجزئ في الأضحية ( كيفية التييم ج ١ ص ٢٨ مكتبة دار إحياء الكتب العربية ) 

كذا في تبيين الحقائق شر ح كنز الدقائق ماء البئر اذا وقعت فيه نجاسة ج ١ ص ٣٤ مكتبة القاهرة ) 

کتبہ محمد نور حسین شعبہ تخصص فی الفقہ الحنفی متعلم  جامعة السعدیہ العربیہ کیرالا ٢٤ ذوالقعدہ ١٤٤٣ھ

 الجواب صحيح محمد أشفاق أحمد رضوي مصباحي صدر شعبۂ افتاء جامعہ سعدیہ عربیہ کیرالا 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ