خطبہ اور شعراء کو کتنا نظرانہ دینا چاہیئے؟


(مسئلہ) بعد سلام عرض ہے کہ علمائے کرام نے میٹنگ کی جس میں خطبہ اور شعرا کو پانچ ہزار روپے دینا قرار پایا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ میں نے سنا ہے کہ پیسہ مقرر کرکے دینا اور لینا دونوں حرام ہیں جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔

(جواب) وعلیکم السلام ورحمة الله مقدمين کے نزدیک طاعت وعبادات پر اجرت لینا یا دینا ناجائز ہے مؤخرین نے موجودہ زمانہ میں شعائر دین وایمان کی حفاظت کے پیش نظر بعض کو مستثنیٰ کیا ہے جن میں خطباء وشعراء نہیں آتے ہاں ان کی اجرت حلال کرنے کی صورت یہ ہے کہ ان حضرات کو مقررہ وقت مثلا کوئی دن ہفتہ یا گھنٹے میں مثلا صبح سے دس بجے تک اپنی خدمت یا کام کے لئے مقررہ اجرت جس پر فریقین راضی ہوں اجیر بنالیں تو اتنے وقت کے لئے یہ حضرات نوکر ہوں گے اور اپنے آپ کو پابند بنانا واجب ہوگا تو اجرت پر رکھنے والوں کو حق ہوگا کہ وہ جو خدمت ان سے چاہیں لیں انہی خدمات میں سے خطابت وحمد ونعت گوئی بھی ہوگی اس صورت میں دینا ضروری اور لینا جائز ہوگا کیونکہ اب ان کی ذات سے منافع پر اجارہ ہے طاعات وعبادات پر نہیں ہے ایسا ہی فتاوی رضویہ (٤٩٦/١٩) میں ہے والله تعالی اعلم

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0