📊 اسلامی معلومات گروپ ایک نظر میں

2326+
کل فتاویٰ
5000+
روزانہ زائرین
50+
فقہی ابواب
حنفی
مسلکِ اہل سنت

اپنے سوالات بھیجے

❓ شرعی سوال پوچھیں: نماز، روزہ، نکاح، طلاق اور دیگر مسائل کے لیے WhatsApp پر رابطہ کریں

مدرسہ کی چھت پر ٹاور لگانے کا حکم



 مدرسہ کی چھت پر ٹاور لگانے کا حکم

سلام مسنون

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں کہ مدرسہ کی چھت پر پرائیویٹ ٹاور لگانا چاہتے ہیں اور ٹاور کے ذریعہ جو آمدنی ہوگی اسے مدرسے ہی میں صرف کیا جاے گا تو اب ایسی صورت میں ٹاور لگا سکتے ہیں مع حوالہ جلد جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی: محمد شرافت حسین رضوی

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

الجواب۔مدارس عموما چندہ کے روپیہ اور زکات وغیرہ کے روپیہ سے بعد حیلہ شرعی تعمیر ہوتے ہیں اور یہ روپیہ صدقہ نافلہ ہوتے ہیں جن کو اسی غرض میں صرف کرنا لازم ہوتا ہے جس کیلئے جمع کئے جائیں اور وہ اپنی غرض یعنی تعمیر مدرسہ میں صرف ہو چکے اور عمارت مدرسہ تعلیم و تعلم کیلئے ہوتی ہے پس اگر ٹاور لگانے سے عمارت مدرسہ کو نقصان نہ ہو و تعلیم و تعلم میں خلل نہ ہو اور منتظمین مدرسہ مصلحت دیکھیں تو اجرت پر ٹاور لگایا جا سکتا ہے البتہ معاہدہ میں کچھ ایسی شرطیں درج کر لیں جن کی بنیاد پر ٹاور والوں کو کبھی بھی دعوی ملک و مکان نہ رہ جاے مثلا پانچ دس سال کیلئے کرایہ پر دیں نیز میعاد ختم ہونے پر فورا ہٹانے کی شرط رکھیں پھر اگر اسے دوبارہ دینا چاہیں تو دوبارہ جدید معاہدہ مذکورہ شرائط کے ساتھ کریں 

بہار شریعت میں بحوالہ ہندیہ ہے یوہیں مسجد کے نیچے کرایہ کی  دکانیں بنائی گئیں یا اوپر مکان بنا یا گیاجن کی آمدنی مسجد میں صرف ہوگی تو حرج نہیں یا مسجد کے نیچے ضرورت مسجد کے لیے تہ خانہ بنایا کہ اُس میں پانی وغیرہ رکھا جائے گا یا مسجد کاسامان اُس میں رہے گا تو حرج نہیں (ح١٠،ص٥٥٨)

فتاوی مرکز تربیت افتا میں ہے اور اگر تعامل قدیم بھی نہ ہو بس یوں ہی لوگوں نے اپنی صوابدید کے مطابق مصالح مسجد کیلئے کچھ دکانیں تعمیر کر لیں تو اس آخری صورت میں یہ اجازت ہوگی کہ اس زمین کا کچھ حصہ اجارہ پر لے لیں جس کا کرایہ مسجد کو جاتا رہے اور معاہدہ میں کچھ ایسی شرطیں لکھیں جن کی بنا پر کبھی بھی اہل مدرسہ کو زمین پر دعویٰ ملک و مکان نہ رہ جاے مثلا دس یا بیس سال کیلئے کرایہ پر دیں اور ساتھ ہی میں میعاد ختم ہونے پر فورا واپسی کی شرط رکھیں۔اس طور پر مدرسہ چلانا جائز ہوگا اور اہل مدرسہ کو حکم ہوگا کہ میعاد مقررہ سے پہلے کسی دوسری زمین کا انتظام کر لیں جہاں وقت آتے ہی مدرسہ منتقل ہو جاے بغیر اس صورت کے استعمال میں لائیں گے تو تغییر وقف ہوگا جو جائز نہیں (ج٢،ص١٨٣)

واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبہ شان محمد مصباحی قادری ١ اگست ٢٠١٩

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ