11.26.2020

کیا تین بار سورۃ اخلاص پڑھ کر کسی کو ایک قرآن بتا سکتے ہیں

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام کہ تین مرتبہ سورہ اخلاص کر کسی کو ایک ختم کلام اللہ شریف دے سکتے ہیں ؟ جواب عنایت فرماٸیں۔


المستفتی محمد غفران علی ممبر آف 2️⃣گروپ یارسول اللہﷺ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ

الجواب الھم ہدایت الحق والصواب

بیشک تین بار سورۃ اخلاص پڑھنے سے ایک ختم قرآن کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ  ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ  ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ  ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ:‏‏‏‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏‏‏‏‏‏يُرَدِّدُهَا ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحَ ‏‏‏‏‏‏جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ترجمہ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ان سے امام مالک نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے سنا کہ ایک دوسرے صحابی سورة قل ھو اللہ باربار پڑھتے ہیں جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا وہ صحابی اس سورت کو کم سمجھتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے(صحیح بخاری حدیث نمبر: 6643) لیکن بعض مولوی حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر کے جس کے گھر میت ہو جاتی ہے یا کوئی مطالبہ کرتا ہے تو انکو کہتے ہیں کہ ایک ختم قرآن میری طرف سے ہے تو یہ قوم کو دھوکہ دینا ہے قوم یہ سمجھتی ہے کہ ایک قرآن ختم ہے لیکن یہ دھوکہ دہی ہے جو کہ شریعت میں جائز نہیں ہے اور اگر یہی مراد لے لیا جائے کہ تین بار سورۃ اخلاص پڑھنے سے مطلق ثواب ہی مل جائے گا تو پھر کوئی قرآن پڑھے گا ہی نہیں سب تین بار سورۃ اخلاص پڑھ لینگے یہ ترغیب صرف سورۃ اخلاص کی دلانے کے لئے ہے جیسا کہ کہا گیا کہ والدین کا چہرہ دیکھنا ایک حج کا ثواب ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ کوئی والدین کا چہرہ محبت سے دیکھ لیں یا کلام اللہِ کا چہرہ دیکھ لیں یا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ علی کا چہرہ دیکھیں تو اسے حج کا ثواب ملتا ہے اس طرح کی احادیث طیبہ ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حاجی ہو جائے گا یہ سب ترغیب دلانے کے لئے ہیں یونہی تین بار سورۃ اخلاص پڑھنے پر جو فضیلت ہے وہ ترغیب دلانے کے لئے ہے نا کہ مطلق پورے قرآن کا ثواب مل جائے گا اگر ایسا ہوتا تو پھر کوئی قرآن ختم نہیں کرتا بلکہ سورۃ اخلاص تین مرتبہ پڑھ لیتے اور ایک قرآن کا ثواب پا جاتے 

 

واللہ و رسولہ اعلم باالصواب


کـــــتــــــــــــبہ العبـــد خاکســـار ناچیـــز محمـــد شفیـــق رضـــا رضـــوی خطیـــب و امـــام سنّـــی مسجـــد حضـــرت منصـــور شـــاہ رحمتـــ اللـــہ علیـــہ بـــس اسٹاپـــ کشـــن پـــور الھنـــد

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only