منکر نماز کافر اور بلا عذر ترک کرنے والا فاسق



 منکر نماز کافر اور بلا عذر ترک کرنے والا فاسق /

بے نمازی/ فاسق کو امام بنانا گناہ اس کی اقتدا میں نماز مکروہ واجب الاعادہ


 زید کے گاؤں میں ایک مولانا صاحب ہیں جو حافظ و قاری بھی ہیں لیکن ایک وقت کی نماز نہیں پڑھتے ہیں بکر کہتا ہے ان کے پیچھے نماز نہیں ہے نہ نماز جمعہ نہ جنازہ نہ عید بقر عید نہ تراویح کی نماز زید کہتا ہے نماز ہوجائے گی کیونکہ وہ عالم ہیں بکر کہتا ہے جو شریعت کے خلاف کام کرے اسکے پیچھے کوئی نماز نہیں ہے جو نماز کا پابند نہیں اسکے پیچھے کوئی نماز نہیں جو جان بوجھ کر اسکے پیچھے نماز پڑھے سب گنہگار ہوئے مفتی صاحب اس مسئلہ مین کون حق پر ہے زید یا بکر

الجواب۔نماز فرض عین ہے اس کا منکر کافر اور بلا عذر صحیح شرعی ایک بار بھی قصدا چھوڑنے والا فاسق مرتکب کبیرہ مستحق عذاب نار ہے۔

در المختار مع رد المحتار جلد ٢ صفحہ ٦،٨ هِيَ فَرْضُ عَيْنٍ عَلَى كُلِّ مُكَلَّفٍ بِالْإِجْمَاعِ وَيَكْفُرُ جَاحِدُهَا لِثُبُوتِهَا بِدَلِيلٍ قَطْعِيٍّ وَتَارِكُهَا عَمْدًا مَجَانَةً أَيْ تَكَاسُلًا فَاسِقٌ

حافظ صاحب چونکہ روزانہ ایک وقت کی نماز چھوڑتے ہیں لہذا گناہ کبیرہ اعلانیہ کرنے کے سبب فاسق معلن ہوے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے

غنیۃ میں ہے لو قدموا فاسقا یاثمون (٤٩٧)-

ردالمحتار میں ہے مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراہۃ تقدیمہ ای الفاسق کراہۃ تحریم (ج۱،۲۱۴)

اسی میں ہے کل صلوۃ ادیت مع کراہۃ التحریم تجب اعادتھا (ج۱،ص۳۳۷)

زید کا قول اس حد تک درست ہے کہ فرض ذمہ سے ساقط ہو جائے گا مگر بے نمازی کے پیچھے نماز کامل نہ ہوگی بلکہ ناقص ہوگی ایسی نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا اور عالم ہونا نماز کے نقصان کو ختم نہ کرے گا۔

بکر کا قول غلط ہے کہ اس کے پیچھے کوئی نماز نہ ہوگی کیونکہ اس کے پیچھے پنجگانہ کراہت کے ساتھ ہو جاے گی اور جمعہ کی نماز دوسری جگہ جمعہ نہ ہو تو اسی کی اقتدا کا حکم ہے البتہ شہر میں دوسری جگہ جمعہ ہوتا ہو تو دوسری جگہ ادا کرنے کا حکم ہے

رد المحتار میں ہے وفي الْمِعْرَاجِ قَالَ أَصْحَابُنَا: لَا يَنْبَغِي أَنْ يَقْتَدِيَ بِالْفَاسِقِ إلا فِي الجمعة لِأَنَّهُ فِي غَيْرِهَا يَجِدُ إمَامًا غَيْرَهُ. اهـ. قَالَ فِي الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ فيكره فِي الْجُمُعَةِ إذَا تَعَدَّدَتْ إقَامَتُهَا فِي الْمِصْرِ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ الْمُفْتَى بِهِ لِأَنَّهُ بِسَبِيلٍ إلَى التَّحَوُّلِ(رد المحتار،ج٢،ص٣٥٤)-

بہار شریعت میں غنیہ فتح القدیر وغیرہ سے ہے فاسق کی اقتدا نہ کی جائے مگر صرف جمعہ میں کہ اس میں  مجبوری ہے باقی نمازوں میں  دوسری مسجد کو چلا جائے اور جمعہ اگر شہر میں چند جگہ ہوتا ہو تو اس میں بھی اقتدا نہ کی جائے دوسری مسجد میں جا کر پڑھیں (ح٣،ص٥٦٩)


واللہ تعالی اعلم

کتبہ شان محمد المصباح القادری

١٨ اگست ٢٠١٩

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ