⚡ فرض فجر کے بعد دیگر نمازیں پڑھنا ⚡
(سوال) فجر کی نماز کے بعد جو فرض، واجب، اور نفل نماز پڑھنا منع ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا اس سے مراد فجر کا وقت ہے یا صرف فرض نماز کی ادائیگی کے بعد کا وقت؟ اگر کسی نے فجر کے فرض ادا کر لیے اور فجر کا وقت ختم ہونے میں تیس منٹ باقی ہیں، تو کیا وہ کوئی اور نماز ادا کر سکتا ہے؟
(جواب) فجر کی فرض پڑھنے کے بعد طلوع آفتاب سے قبل صرف نوافل اور واجب لغیرہ مکروہ ہیں یعنی وہ سجدے اور نمازیں جو کسی سبب سے واجب ہوئیں ہوں جیسے سجدہ سہو اور نذر کی نماز۔ اس دوران فرائض اور واجبات پڑھنے میں حرج نہیں ہے۔ اس کے منع کی یہی وجہ ہے کہ شارع عليه السلام نے منع فرمایا ہے۔ فتاوی شامی میں ہے: واعلم أن ما يسمى صلاة ولو توسعًا إما فرض أو واجب أو نفل، والأول عملي وقطعي، فالعملي الوتر، والقطعي كفاية وعين، فالكفاية صلاة الجنازة، والعين المكتوبات الخمس والجمعة والسجدة الصلبية، والواجب إما لعينه، وهو ما لا يتوقف وجوبه على فعل العبد، أو لغيره وهو ما يتوقف عليه؛ فالأول الوتر فإنه يسمى واجبًا كما يسمى فرضًا عمليًا وصلاة العيدين وسجدة التلاوة، والثاني سجدتا السهو وركعتا الطواف وقضاء نفل أفسده والمنذور والنفل سنة مؤكدة وغير مؤكدة. واعلم أن الأوقات المكروهة نوعان الأول الشروق والاستواء والغروب. والثاني ما بين الفجر والشمس، وما بين صلاة العصر إلى الاصفرار فالنوع الأول لا ينعقد فيه شيء من الصلوات التي ذكرناها إذا شرع بها فيه وتبطل إن طرأ عليها إلا صلاة جنازة حضرت فيها وسجدة تليت آيتها فيها وعصر يومه والنفل والنذر المقيد بها وقضاء ما شرع به فيها ثم أفسده، فتنعقد هذه الستة بلا كراهة أصلًا في الأولى منها ومع الكراهة التنزيهية في الثانية والتحريمية في الثالثة، وكذا في البواقي، لكن مع وجوب القطع والقضاء في وقت غير مكروه. والنوع الثاني ينعقد فيه جميع الصلوات التي ذكرناها من غير كراهة، إلا النفل والواجب لغيره فإنه ينعقد مع الكراهة فيجب القطع والقضاء في وقت غير مكروه اهـ ح مع بعض تغيير (٣٤/٢ دار عالم الکتب) یعنی جان لو کہ جو بھی نماز کہلائی جائے اگرچہ توسعاً ہو وہ یا تو فرض ہے یا واجب یا نفل پہلی قسم عملی ہے اور قطعی ہے عملی وتر ہے اور قطعی فرض کفایہ اور فرض عین ہے کفایہ جنازہ کی نماز ہے اور عین پانچ فرض نمازیں جمعہ اور سجدۂ تلاوت ہیں واجب یا تو بذات خود ہے جو بندے کے فعل پر موقوف نہیں یا کسی اور وجہ سے ہے جو کسی شرط پر موقوف ہو پہلی قسم میں وتر جو واجب بھی کہلاتی ہے اور عملی فرض بھی عیدین کی نماز اور سجدۂ تلاوت ہے۔ دوسری قسم میں سجدۂ سہو طواف کے دو رکعات فاسد شدہ نفل کی قضا اور نذر شامل ہیں تیسری قسم نفل یا تو مؤکدہ سنت ہے یا غیر مؤکدہ اور جان لو کہ مکروہ اوقات دو قسم کے ہیں پہلی قسم سورج کے طلوع زوال اور غروب کے وقت۔ دوسری قسم فجر کے بعد سے سورج کے طلوع تک اور عصر کے بعد سے سورج کے زرد ہونے تک پہلی قسم میں کوئی بھی نماز جو ہم نے ذکر کی شروع کرنا جائز نہیں اور اگر شروع ہو تو باطل ہوجاتی ہے مگر وہ چھ نمازیں جو ان اوقات میں جائز ہیں جنازہ جو اس وقت میں حاضر ہو سجدۂ تلاوت جو اسی وقت میں پڑھی جائے اسی دن کی عصر وہ نفل اور نذر جو اسی وقت کے ساتھ مقید ہو اور وہ نماز جو اس وقت میں شروع ہوئی اور بعد میں فاسد ہوگئی ان چھ میں سے پہلی میں بالکل کراہت نہیں دوسری میں کراہت تنزیہی کے ساتھ اور تیسری میں کراہت تحریم کے ساتھ اور باقی میں بھی یہی حکم ہے لیکن ان میں واجب ہے کہ ان کو ترک کر کے غیر مکروہ وقت میں قضا کریں دوسری قسم میں ذکر کی گئی تمام نمازیں بغیر کراہت کے پڑھی جاسکتی ہیں مگر نفل اور واجب لغیرہ کہ یہ کراہت کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں لہذا ان کو ترک کر کے غیر مکروہ وقت میں قضا کرنا واجب ہے والله أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
