لیکوریا پر استحاضہ والی نماز کیسے پڑھے؟


 ⚡ لیکوریا پر استحاضہ والی نماز کیسے پڑھے؟ ⚡ 


(سوال) کیا لیکوریا کی بیماری کی وجہ سے غسل فرض ہو جاتا ہے؟ اگر نہیں، تو وضو کتنی بار کرنا چاہیے، اور دورانِ نماز یہ مسئلہ پیش آ جائے تو کیا کیا جائے؟

(جواب) لیکوریا کی وجہ سے غسل فرض نہیں ہوتا البتہ یہ ناقضِ وضو ہے اگر بیماری اس حد تک شدید ہو کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرنے کا موقع نہ ملے اور پورا وقت اسی حالت میں گزر جائے تو ایسی صورت میں عورت شرعی معذور شمار ہوگی۔ معذور کے لیے حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت نیا وضو کرے اور اس وضو سے وقت کے اندر جتنی نمازیں چاہے پڑھ سکتی ہے چاہے رطوبت مسلسل خارج ہوتی رہے البتہ کوئی اور وضو توڑنے والا سبب پایا جائے تو وضو دوبارہ کرنا ضروری ہوگا اوت اگر اتنا وقت حاصل کر سکتی ہو کہ نماز کے وقت میں وضو کرکے پاکی کی حالت میں فرض نماز ادا کر سکے تو ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا واجب ہوگا یاد رہے اگر لیکوریا کی رطوبت روکنے کے لیے کوئی کپڑا استعمال کیا جائے اور اتنی دیر کے لیے خون روکا جا سکے کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کر لی جائے تو ایسی صورت میں وہ شرعی معذور نہیں معذور عورت کے لیے لباس کی پاکیزگی کا حکم یہ ہے کہ اگر رطوبت کپڑوں پر ایک درہم سے زیادہ مقدار میں لگ جائے اور اسے دھونے کی مہلت ہو تو پاک کرکے نماز پڑھنا فرض ہوگا لیکن اگر معلوم ہو کہ نماز کے دوران دوبارہ اسی مقدار میں ناپاکی ہو جائے گی تو دھونا ضروری نہیں اور اسی حالت میں نماز پڑھ سکتی ہے چاہے جائے نماز بھی ناپاک ہو جائے اگر ناپاکی ایک درہم کے برابر ہو تو پہلی صورت میں دھونا واجب ہوگا اور درہم سے کم ہو تو دھونا سنت ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ