12.31.2019

حضرت سیدہ فاطمہ کی روح کس نے قبض کی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*📖ســــوال:👇*
اک سوال کسی نے پوچھا ہے کہ حضر فاطمہ کی روح حضرت عزرائیل علیہ السلام نے نہیں نکالی ہے تو پھر کس نے نکالی کیا یہ سہی بات ہے جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں کرم ہوگا ۔لیکن تھوڑا تفصیلی جواب عنایت فرماۓ

سائل؛؛؛ مولانا کونین رضا نظامی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

_*📝الجـــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــــــــــ👇
صورت مسئولہ میں حضور سیدی سرکار بحرالعلوم مفتی عبد المنان صاحب قبلہ اعظمی علیہ الرحمہ اپنی کتاب " فتاویٰ بحرالعلوم جلد دوم صفحہ ٥ " پر تحریر فرماتے ہیں کہ :" موت کے موضوع پر قرآن کریم میں بہت سی آیتیں ہیں - ہم مسئلہ کی وضاحت کے لئے صرف تین مقدس آیتوں کا ذکر کرتے ہیں 
(📖١- " الذی یتوفی الانفس حین موتھا " ( الزمر )
"(ای یقبض الارواح عند حضور آجالھا (📒 صاوی شریف جلد سوم صفحہ ٣٥١ )یعنی ," اللہ تعالیٰ موت کے وقت سب کی روح قبض فرماتا ہے -"اس آیت شریفہ میں روح قبض کر نے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے-(📖٢- حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و ھم لا یفطرون"( سورہ الانعام)
(📖ای الملائکۃ المؤکلون یقبض الارواح -( صاوی شریف جلد دوم صفحہ ١٩)
یعنی، " جب تم سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے جو جان نکالنے پر مقرر ہیں ، روح قبض کر لیتے ہیں -"
اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ روح قبض کرنے والے فرشتے ہیں (📖٣- قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم تر جعون -( السجدہ)؛
یعنی "آپ فرماؤ ...!!! کہ ملک الموت روحیں قبض کرتے ہیں جو اس پر مقرر ہیں 
آپ حیران ہوں گے کہ مسئلہ ایک اور قرآن شریف میں اس کے تین مختلف جواب ....!!!اللہ تعالیٰ سب کی روح کرتا ہے ،ملک الموت سب کی روح قبض کرتے ہیں،بہت سے فرشتے مل کر روح قبض کرتے ہیں ،اس میں کچھ اچنبھے کی بات نہیں ...!!!
ایک مکان بنتاہے ، مالک کی زمین پیسہ اور سامان اس میں صرف ہوتا ہے - اس لئے وہ_ _خوش ہوکر وہ کہتا ہے کہ میں نے مکان بنایا -آپ کو اس کی بات پر کوئی حیرت نہیں ہوتی انجینئر سوچتاہے کہ میں میرے نقشے اور میری نگرانی میں یہ مکان بنا اس پر وہ آپ سے کہتا ہے کہ میں نے یہ مکان بنایا 
اور آپ کو تعجب نت ہوتا
اور مستر اور مزدوروں نے مل کر مالک کے سرمایہ اور انجینئر کے نقشے کو مجسم اور مکمل کردیا ، اس لئے ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مکان ہم نے بنایا -آپ اس کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دعویٰ سب کا ایک ہی ہے لیکن ....!!! نوعیت سب الگ ہے بات سمجھانے کے لئے ہم نے ایک دنیاوی مثال بیان کیا ، ورنہ کہاں خاکی انسان ...!!! اور کہاں باقی صفت و شان .. .!!!
" چہ نسبت خاک را ، باعالم پاک ....!!!"
اب اس مسئلہ میں حضرت علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ملاحظہ فرمائیں:
(📖" ولا منافاۃ بینھا فما ھنا محمول علی مباشرۃ اخذ ھا ، وما فی الانعام محمول علی معالجۃ اعوان عزرائیل علیہ السلام لمن امر بقبض روحہ وما فی الزمر محمول علی الحقیقۃ فان المتوفی حقیقۃ ھواللہ )-"
( 📔صاوی شریف جلد سوم صفحہ ٢٤٦)
یعنی،" ان تینوں آیتوں میں کوئی منافات نہیں ....!!!عزرائیل علیہ السلام کے اعوان مرنے والے کے پورے جسم سے روح سمیٹ کر حلق تک پہنچا دیتے ہیں - اس لئے ان کو قابض روح کہا گیا -حضرت عزرائیل علیہ السلام اس کو حلق کے پاس سے اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں ، تو ان کے لئے کہاکہ وہ روح قبض کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف روح قبض کرنے کی نسبت حقیقی ہے ، وہی حقیقت میں وفات دینے والا ہے۔تو پھر جب حقیقت میں سب کی روح قبض کرنے والا رب تعالیٰ ہے تو اگر یہ کہا جائے کہ : حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح پاک اللہ تعالیٰ نے قبض کی تو اس میں کیا قرآن وحدیث کے خلاف ہوا ...؟ "قرآن کریم کی آیت پاک آپ نے پڑھی ...اب احادیث شریفہ ملاحظہ فرمائیں :کتب صحاح ستہ میں سے ایک کتاب " ابوداؤد شریف " کے حوالہ سے صاحب " مشکوٰۃ شریف " یہ حدیث پاک نقل کرتے ہیں :" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر یہ دعا پڑھی :
📖اللھم انت ربھا و انت خلقتھا و انت ھدیتھا الی الاسلام و انت قبضت روحھا
 (📕 مشکوٰۃ شریف صفحہ ٢٤٧)
یعنی ، " یا اللہ ....!!! تو اس مرنے والے کارب ہے ....!!! توہی اسے پیدا کیا ....!!! اور تو ہی اسے اسلام کی ہدایت دی ....!!! اور تو ہی اس کی روح قبض کی ہم کو تو یہ افسوس ہے کہ آج کل علمائے کرام الاماشاء اللہ شاید عام طور پر سے جنازہ پر پڑھی جانے والی دعا کا ترجمہ بھی نہیں جانتے ہیں ...!!!
دیکھئے .... !!! اس میں بھی ہے:
 الھم من احییتہ منا فاحیہ علی الاسلام ومن توفیتہ فتوفاہ علی الایمان -یعنی ، " یا اللہ ...!!! تو ہم سے جس کو زندہ رکھے ...!!! تو اسلام پر زندہ رکھ ...!!! اور جس کو وفات دے ، جس کی روح قبض فرماتو ایمان پر قبض فرما ....!!! بہرحال ...!!! یہ کہنا کہ: حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح کو اللہ تعالیٰ نے قبض فرمایا -" کوئی شرعی گرفت نہیں
اسی طرح تفسیر روح البیان اور الاعلام میں بھی اس کی صراحت موجود ہے
واللہ تعالیٰ و رسولہ اعلم بالصواب
✍کتبہ
 مفتی محـــمـــد جــعــفـر عــلــی صدیقی رضـوی، 
مورخہ; ۲۷ اگست ۲۰۱۹ء بروز بدھ
اســـــــلامی مـــعــلــومات گــــروپ
  1. ہمارے بہت سارے ہمارے عُلماءِ اہلِسُنے ہیں جن کا یہ کام ہے کو وہ مدرسوں کے نام کا اور مسجدوں کے نام کا اور زیارتوں کے نام کا لوگوں سے چندہ کرتے ہیں اُن چندوں سے اپنے گھر بناتے ہیں جو سند د یافتہ عالمِ دین اور حفازِ کرام بھی ہوں اور امامت بھی کرتے ہوں اور مُبلغ بھی ہوں

    کیا ان کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے کیا وہ گھر ان کے لیے جائز ہیں ہیں جو چندے سے بنائے گئے ہیں۔
    سائیل :-عوام ِ اہلِسُنت قران و حدیث کی روشنی میں ان کے بارے میں شری کیا حکم ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only