12.31.2019

کیا چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی رہتا ہے

السلام علیکم و رحمة اللہِ و برکاتہ
_*سوال؛؛👇*_ 
میرا سوال یہ ھے کہ لوگ اس مسئلہ کو بہت بیان کرتےھیں کہ چالیس 40 لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتاہے یا دوسرے طریقے سے یہ کہتے ھیں کہ چالیس 40 لوگوں میں ایک جنتی ہوتاہے اور یہ بات کہاں تک درست ھے اور اسکو نبئ الاولین والآخرین ﷺ کیطرف منقول کرتےھیں بحوالہ جواب عنايت کردیں کرم بالاۓ کرم ہوگا

_*سائل☘ :👈🏻 حافظ محمد اکبر علی نوری دیناجپور ویسٹ بنگال انڈیا*_

وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
 _*📚الجواب👇*_
امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " علماء فرماتے ہیں جہاں چالیس مسلمان صالح جمع ہوتے ہیں ان ایک ولی اللہ ضرور ہوتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ " اذا شهدت أمة من الامم وهم اربعون فصاعدا جاز الله تعالى شهادتهم رواه الطبرانى فى الكبير والضياء المقدسى عن الوالدابى المليح " اھ یعنی جب کوئی جماعت حاضر ہو اور چالیس افراد یا اس سے زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو جائز قرار دیتا ہے امام طبرانی معجم کبیر میں اور ضیاء مقدسی نے ابو الملیح کے والد کے حوالہ سے اس کو روایت کیا ہے " اھ المعجم الکبیر حدیث 503 : المکتبۃ الفیصلیة بیروت ) اور تیسیر شرح جامع صغیر میں فرمایا : قيل و حكمة الاربعين انه لم يجتمع هذا العدد الا فيهم ولى " اھ
 یعنی کہا گیا کہ چالیس کے عدد میں حکمت یہ ہے کہ یہ تعداد کبھی پوری نہیں ہوتی بجز اس کے کہ ان میں کوئی نہ کوئی ولی ضرور ہوتا ہے " اھ تیسیر شرح جامع صغیر حرف الھمزہ : مکتبة الأمام الشافعى الرياض بحوالہ فتاوی رضویہ ج 24 ص 185 : رضا فاؤنڈیشن لاھور ) اور حدیث شریف میں ہے کہ " عن کریب انظر ماجتمع له من الناس قال فخرجت فاذا ناس قد اجتمعوا له فاخبرته فقال تقول ھم اربعون قال اخرجوہ فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول مامن رجل مسلم یموت فیقوم علی جنازۃ اربعون رجلا لا یشرکون بالله شیاء الا شفعتھم الله فیه " اھ یعنی روایت ہے حضرت کریب ابن عباس کے مولی سے وہ عبد اللہ ابن عباس ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) سے راوی کہ ان کا فرزند قدید یا عسفان میں وفات پاگیا ، تو آپ نے فرمایا اے کریب دیکھو کتنے لوگ جمع ہوگئے فرماتے ہیں کہ میں ‌نکلا ، تو لوگ جمع ہو گئے تھے میں نے آپ کو خبر دی فرمایا کہ کیا تم کہہ سکتے ہو کہ چالیس ہوں گے ...؟ میں نے کہا ہاں فرمایا میت کو لاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو مر جائے ، اس کے جنازے پر چالیس آدمی کھڑے ہوں جو اللہ کا کوئی شریک نہ جانتے ہوں ، مگر اللہ ان کی سفارش اس میت کے_ _بارے میں ضرور قبول فرماتا ہے " اھ
  مرآة المناجيح شرح مشکوٰۃ ، ج 2 ص 467 بحوالہ رواہ مسلم
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ و الرضوان مرقاۃ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ " جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں ایک ولی ضرور ہوتا ہے جسکی دعا قبول ہوتی ہے ، اس سے بھی مراد ولی تشریعی ہے مسلمان سے مراد متقی مسلمان ہیں ورنہ سینماؤں وغیرہ میں ہزاروں فساق ہوتے ہیں " اھ
 مراۃ المناجیح ج 2 ص 467 
واللہ اعلم باالصواب
 حضرت علامہ،مفتی ومولاناکریم اللہ رضوی صاحب قبلہ
مورخہ؛ ۲۵ اگست ۲۰۱۹ء بروز اتوار
اســـــــلامی مـــعــلــومات گــــروپ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only