ڈھول باجے کی تجارت کرنا کیسا ہے


السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ
 عرض یہ ہے کہ ڈھو ل اور بینڈ با جا کی تجا رت کر نا جا ءز ہے یا نہیں اور اگر نا جا ءزہے تو اس دکان میں بر کت کیلیے تعویذ دے سکتے ہیں یا نہیں سا ءل عبداللہ حضوری کٹیہاری


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب*
صورت مسؤلہ ڈھول باجایابینڈکی تجارت کرناناجائزہے اور اسکی کمائی ہوئی رقم بھی ناجائزہے ناجائزہونےکی علت یہ ہےکہ یہ سب چیزگناہ پراعانت ہےجوحرام ہے 

سرکاراعلیٰ حضرت عظیم البرکت قدس سرہ سے اسی متعلق سے ایک سوال کیاگیاکہ باجابجانے کی نوکری کرناکیساہے۔الی آخر۔۔بینواتواجرو

🖊آپ فرماتےہیں باجابجانےکی نوکری کرناناجائزہےاوراس سےجوکچھ حاصل کیاجائےنہ صرف خبیبث وناپاک بلکہ مال مغصوب ہے

فتاوی رضویہ شریف قدیم جلدنہم صفحہ 72رضااکیڈمی 

جیساکہ صاحب مرکزتربیت افتاء سےسوال کیاگیا کہ حرام چیزوں کی تجارت کرناکیساہے 
بینواتواجرو

آپ فرماتےہیں کہ حرام چیزوں کی تجارت کرناناجائزہے اوراس کی کمائی ہوئی رقم بھی ناجائزہے

اللہ تعالیٰ قرآن پاک کےاندرارشادفرماتاہے

ولاتعانواعلی الاثم والعدوان

پارہ 6سورہ مائدہ آیت نمبر2

فتاوی مرکزتربیت افتاءجلددوم صفحہ 241


الحاصل۔کتب فتاوی سےمعلوم ہوامذکورہ چیزکی تجارت کرناناجائزہے توناجائزتجارت کیلئے تعویذدینابھی ناجائزہے اس لئےایسی تجارت کیلئے خیروبرکت کاتعویذدیناجائزنہیں ہے 


          واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ
         اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے