قرآن وحدیث کا انکار کرنے والے پر کیا حکم ہے



السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

تمام علماء کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ مولانا لوگ جتنی باتیں کرتے ہیں وہ سب کتابی ہیں اور میں کتابوں کو نہیں مانتا جو میرا دل کرتا ہے میں وہی کرتا ہوں 
تو اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے رہنمائی فرمائیں
جواب عنایت فرمائیں قرآن و احادیث کی روشنی میں عین نوازش ہوگی

سائل عبد اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

 شخص مذکور کا یہ جملہ بہت سخت ھے اس پر توبہ تجدید ایمان اور اگر شادی شدہ ھے تو تجدید نکاح بھی لازم ھے اگر توبہ تجدید ایمان و تجدید نکاح نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا سماجی بائیکاٹ کریں اور یہ کہے کہ مولانا حضرات جو تقریر کتاب (یعنی قرآن وحدیث یا اس سے اخذ کیا گیا کتاب) سے بولتے ھیں میں اس کتاب کو مانتا ہوں اور دوبارہ نہ بولنے کی جرأت عھد کرے اس لیۓ کہ اس نے قرآن و حدیث کا انکار کیا اور قرآن و حدیث کا انکار کرنا کفر ھے
اور ایسے ہی سراج الفقہاء مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ فتاوی مفتی اعظم ہند جلد اول صفحہ ٢ میں تحریر فرماتے ہیں
                    واللہ اعلم باالــــــصـــــواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری سعدی عفی عنہ

              ٢جمادی الاول ١٤٤١ھجری
                 ٣٠ دسمبر ٢٠١٩ عیسوی
                    اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے