پاجامہ یا پینٹ موڑ کر نماز ادا کرنا کیسا ہے




     السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 الســـــــــــوال👈🏽 کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پینٹ موڑ کر نماز ادا کرنا کیسا ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں؟ عین نوازش ہوگی

        سائل👈🏽 معراج رضا چشتی


 وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ

   📚 الجوابـــ۔ بعون الملک الوھابــــ 👇

پینٹ موڑ کر نماز ادا کرنا مکروه تحریمی ھے ۔
علامہ تطہیراحمد رضوی بریلوی تحریرفرماتےھیں ،،
کچھ لوگ ٹخنوں سے نیچالٹکاھواپاجامہ اور پینٽ پہنتے ھیں اگر انہوں نے اس کی عادت ڈال رکھی ھے اور تکبر وگھمنڈ کے طور پر وہ ایسا کرتے ھیں تو یہ ناجائزوگناہ ھے ۔اور اس طرح نماز مکروہ لیکن اگر اتفاق سے ھو یا بے خیالی بے توجہی سے ھو تو حرج نہیں ۔اور جو لوگ اس سے بچنے کیلۓ اور تخنے کھولنے کےلۓ موری پائچے کو چڑھاتے ھیں وہ گناہ کو گھٹاتے نہیں بلکہ بڑھاتے ھیں اور نماز میں خرابی کوکم نہیں کوتے بلکہ زیادہ کرتے ھیں ۔ یہ پینٽ اور پاجامے کی موری پائچے کو لپیٹ کرچڑھانا نمازمیں مکروہ تحریمی ھے۔
حدیث شریف میں ھے
عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله تعالی عليه و سلم امرت ان اسجد علی سبعة اعظم علی الجبھة والیدین والرکبتین واطراف القدمین ولا نکفت الثیاب ولا الشعر۔
حضرت عبداللہ بن عباس عباس رضی اللہ تعالی عنھما روایت کرتے ھیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ مجھے حکم دیاگیا کہ میں سات ھڈیوں پر سجدہ کروں پیشانی دونوں ھاتھ دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے اور یہ حکم دیا گیا کہ میں نماز میں کپڑے اور بال کو نہ سمیٹوں ۔( بحوالہ بخاری شریف ومسلم شریف )

📕مشکواة المصابیح۔صفحہ ٨٣

📗مشکواة مترجم جلداول صفحہ ١٩٠
اس حدیث کی رو سے کپڑا سمیٹنا اور چڑھانا نماز میں منع ھے ۔
لھذا پینٽ اور پاجامے کی موری لپیٹنے اور چڑھانے والوں کو اس حدیث شریف سے عبرت حاصل کرنا چاھیۓ ۔

📗غلط فھمیاں اور اس کی اصلاح صفحہ ٤٦

        وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب

 شرف قلم حضرت علامہ و مولانا محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی عفی عنہ 

_*✅ { اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ } ✅*_

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے