کیا مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں

السلام علیکم ورحمته اللّه وبرکاته

علماء کرام و مفتیان عظام رہنمائی فرمائیں کیا عورت مرد کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے؟
اور کیا نماز کے دوران عورت نے نقاب کیا ہو تع نماز ہو جاتی ہے؟
میری یونیورسٹی
میں ایک عورت ہماری صف کے ساتھ جائے نماز بچھا کر نماز اپنی شروع کر دیتی ہے بالکل صف والی لائن میں
تو اس میں کوئی کراہت تو نہیں؟

سائل علی رضا کراچی پاکستان

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ 

الجواب اللھم ھدایة الحق والصواب 
عورت مرد کے برابر کھڑے ھو کر نماز نہیں پڑھ سکتی ۔ کیونکہ عورت اگر مردکے برابر کھڑی ھو تو مرد کی نماز نہیں ھوگی ۔اور اگر مرد نے نماز شروع کردی بعدمیں عورت آکر برابر کھڑی ھوگئ تو عورت کی نماز فاسد ھوگی ۔
جیساکہ حضورصدرالشریعیہ بدرالطریقہ علامہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ الرحمةوالرضوان نےارشادفرمایا،، 
عورت اگر مردکے محاذی (برابر)ھوتو مرد کی نماز جاتی رھے گی اس کیلۓ چند شرطیں ہیں ۔
١ عورت مشتہاة ھو یعنی اس قابل ھوکہ اس سے جماع ھوسکے اگرچہ نابالغہ ھو اور مشتہاة میں سن کا اعتبار نہیں ۔نوبرس کی ھو یااس سے کچھ کم کی جبکہ اس کا جثہ اس قابل ھو، اوراگر اس قابل نہیں تونمازفاسد نہ ھوگی ۔اگرچہ نمازپڑھنا جانتی ھو بڑھیابھی اس مسئلہ میں مشتہاة ھے وہ عورت اگراسکی زوجہ ھویامحارم میں ھو جب بھی نماز فاسد ھوجاۓ گی ۔
٢ کوئ چیز انگلی برابر موٹی اور ایک ھاتھ اونچی حائل نہ ھو ، نہ دونوں کےدرمیان اتنی جگہ خالی ھو کہ ایک مرد کھڑاھوسکے ، نہ عورت اتنی بلندی پر ھو کہ مردکا کوئ عضو اس کے کسی عضو سے محاذی نہ ھو ۔
٣ رکوع سجود والی نماز میں یہ محاذات واقع ھو ، تواگر نمازجنازہ میں محاذات واقع ھوئ تو نماز فاسد نہ ھوگی ۔
٤ وہ نماز دونوں میں تحریمة مشرک ھو یعنی عورت نے اس کی اقتداء کی ھو یا دونوں نے کسی امام کی ، اگرچہ شروع سے شرکت نہ ھو ، تو اگر دونوں اپنی اپنی پڑھتے ھوں تو فاسد نہ ھوگی مکروہ ھوگی ۔
٥ ادا میں مشترک ھوکہ اس میں مرد اس کا امام ھو یا ان دونوں کاکوئ دوسرا امام ھو جس کے پیچھے اداکر رھے ہیں حقیقہ یا حکما مثلا دونوں لاحق ھوں کہ بعد فراغ امام اگرچہ کے پیچھے نہیں مگر حکما امام کے پیچھے ھی ھیں اور مسبوق امام کے پیچھے نہ حقیقہ ھے نہ حکما بلکہ وہ منفرد ھے ۔
٦ دونوں ایک ھی جہت کومتوجہ ھوں اگر جہت بدل جاۓ جیسے تاریک شب میں کہ پتہ نہ چلتاھو ایک طرف امام کامنھ ھے اور دوسری طرف مقتدی کا ، یاکعبہ معظمہ میں پڑھی اور جہت بدلی ھو تو نماز ھوجاۓ گی ۔
٧ عورت عاقلہ ھو۔مجنونہ کی محاذات میں نماز فاسد نہ ھوگی ۔
٨ امام نے امامت زناں کی نیت کرلی ھو اگرچہ شروع کرتے وقت عورتیں شریک نہ ھوں ، اور اگر امامت زناں کی نیت نہ ھوتو عورت ھی کی فاسد ھوگی مردکی نہیں ۔
٩ اتنی دیرتک محاذات رھے کہ ایک کامل رکن اداھوجاۓ یعنی بقدرتین تسبیح کے ۔
١٠ دونوں نمازپڑھنا جانتےھوں ۔
١١ مردعاقل بالغ ھو ۔
بحوالہ درمختار وردالمحتار جلداول صفحہ ٣٨٥
فتاوی عالمگیری جلداول صفحہ ٨٣
اورفرماتےھیں ،، مردکے شروع کرنے کے بعد عورت آکربرابر کھڑی ھوگئ اور اس نے امامت عورت کی نیت بھی کرلی ھے مگر شریک ھوتے ھی پیچھے ہٹنے کو اشارہ کیا مگرنہ ہٹی تو عورت کی نماز جاتی رھے گی مردکی نہیں ، یوہیں اگر مقتدی کے برابر کھڑی ھوئ اور اشارہ کردیا اور نہ ہٹی تو عورت ھی کی نماز فاسد ھوگی ۔
بحوالہ ردالمحتار جلداول صفحہ ٣٨٧
بہارشریعت جلداول حصہ سوم صحفہ ١٢٢،١٢٣
لھذا عورت اگر جماعت میں نہ ھو اور مردوں سے الگ نماز پڑھتی ھے تو نمازھوجاۓگی ۔ اس میں کوئ کراھت نہیں ۔
عورت اگر نقاب میں ھے اور نماز پڑھتی ھے تو اس کی نماز ھوجاۓ گی۔۔
اگر عورت مرد کے برابر مل کر کھڑی ھوتی ھے تو نمازنہیں ھوگی۔
وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

کتبه 


العبد محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ 

١٢ جمادی الاولی ١٤٤١ھ
٩ جنوری ٢٠٢٠ ء
اســـــلامی مـــعــلـومات گــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے