کیا طلاق واقع ہونے کے لئے بیوی کو طلاق کے الفاظ سننا ضروری ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

            الســـــــــــــــوال👇
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہٰذا میں کہ👇
 عورت کی غیر موجودگی میں شوہر نے طلاق دے دیا اب عورت اسکے گھر بھی آ گئی اور وہ لوگوں نے آپس میں صحبت بھی کی تو کیا اس طرح اس عورت سے دوبارہ صحبت کرنا درست ہے یا نہیں جبکہ عورت کو خبر نہیں لیکن مرد اس بات سے با خبر ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں
 قرآن و احادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل / محمد شاکر رضوی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*📝 الجوابـــــ بعون الملک الوہابــــــ ⇩*
 *مذکورہ بالا صورت مستفسرہ میں جواب یہ ہے کہ 👇👇*
اس صورتحال میں طلاق واقع ہوجائےگی کیونکہ طلاق کے لئے بیوی کا وہاں موجود ہونا ضروری نہیں ۔ شوہر بیوی کے سامنے طلاق دے یا دیگر رشتے داروں کے سامنے یا دوستوں کے سامنے یا بالکل تنہائی میں ہر حال میں اگر شوہر نے اتنی آواز سے الفاظ طلاق کہے کہ اس کے کانوں نے سن لیے یا کانوں نے شور وغیرہ کی وجہ سے سنے تو نہیں لیکن آواز اتنی تھی کہ اگر آہستہ سننے کا مرض یا شور وغیرہ نہ ہوتا تو کان سن لیتے ایسی صورت میں طلاق واقع
ہوجائے گی ۔ کسی دوسرے کا موجود ہونا یا بیوی یا کسی دوسرے کا طلاق کے الفاظ سننا کوئی ضروری نہیں۔
سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، طلاق کیلیۓ عورت کا وھاں حاضر ھونا کچھ شرط نہیں ہے فانه ازالة لا عقد کما لایخفی ،، .
📗✒فتاوی رضویہ جلد 5 ص 618
 حضرت العلام مولانا مفتی محمد تطہیر احمد رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں ،، کہ کچھ لوگ سمجھتے ھیں کہ شوھر اگر بیوی کو طلاق دے تو الفاظ طلاق کا عورت کیلیۓ سننا اور عورت کا بوقت طلاق سامنے ھونا ضروری ھے یہ غلط فہمی ھے ۔
عورت اگرنہ سنے اور وھاں موجود بھی نہ ھو تب بھی شوھر کے طلاق دینے سے طلاق ھو جاۓ گی خواہ شوھر اور بیوی میں ھزاروں میل کا فاصلہ ھو ۔
📗غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح ص 77
لہذا مذکورہ بالا مسئلے میں سائل نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کتنی بار طلاق دیاھے ۔
طلاق کی تین قسمیں ہیں: (1)طلاقِ رجعی (2)طلاقِ بائن (3)طلاقِ مغلظہ
👈(1)طلاقِ رجعی“ یہ ہے کہ صاف اور صریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دی جائے،اگر سائل مذکور نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو رجوع کرسکتا ہے لیکن اس کی صورت یہی ہے کہ اس نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں رجعی دی ہوں ۔ مثلا یوں کہا تھا میں نے تجھے طلاق دی یا یوں کہا تھا میں نے تجھے دو طلاقیں دیں یا ایک طلاق پہلے بھی زندگی میں دی تھی اور ایک طلاق اب دی تو یہ دوسری طلاق ہوئی اب بھی رجوع ہوسکتا ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ ایسی طلاق میں عدّت پوری ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے، اور شوہر کو اختیار ہے کہ عدّت ختم ہونے سے پہلے بیوی سے رُجوع کرلے، اگر اس نے عدّت کے اندر رُجوع کرلیا تو نکاح بحال رہے گا اور دوبارہ نکاح کی ضرورت نہ ہوگی، اور اگر اس نے عدّت کے اندر رُجوع نہ کیا تو طلاق موٴثر ہوجائے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا، اگر دونوں چاہیں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ لیکن جتنی طلاقیں وہ استعمال کرچکا ہے وہ ختم ہوگئیں، آئندہ اس کو تین میں سے صرف باقی ماندہ طلاقوں کا اختیار ہوگا، مثلاً: اگر ایک طلاق دی تھی اور اس سے رُجوع کرلیا تھا تو اَب اس کے پاس صرف دو طلاقیں باقی رہ گئیں، اور اگر دو طلاقیں دے کر رُجوع کرلیا تھا تو اَب صرف ایک باقی رہ گئی، اب اگر ایک طلاق دے دی تو بیوی تین طلاق کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ یعنی طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یااچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے
📗پ 2 سورہ بقرہ آیت مبارکہ 229
وإذاطلق الرجل امرأته، تطلیقةً رجعیةً، أوتطلیقتین، فله أن یراجعها في عدتها، رضیت بذلک أولم ترض‘‘.
📗✒(الهندیة، ۱/۴۷۰)
رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ بھی کرلے۔ اور اگر اس نے اپنی مطلقہ رجعیہ سے عدت گزر نے سے پہلے ہمبستری کرلے یا شہوت کے ساتھ بوسہ لے لے تو بھی رجعت ثابت ہوجائے گی۔ اور اگر عدت کے اندر رجعت نہ کیا اور بعد عدت عورت کی رضا سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے،حلالہ کی ضرورت نہیں ۔
📗✒هکذا فی فتاوی فيض الرسول ج 2 ص 160

لہذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ اگر سائل مذکور نے واقعی میں عدت کے دوران اپنی بیوی سے صحبت کی ہے تو رجعت ثابت ہوگئی اور دونوں کا نکاح بحال برقرار ہے
👈(2)طلاقِ بائن یہ ہے کہ گول مول الفاظ (یعنی کنایہ کے الفاظ) میں طلاق دی ہو یا طلاق کے ساتھ کوئی ایسی صفت ذکر کی جائے جس سے اس کی سختی کا اظہار ہو، مثلاً یوں کہے کہ: ”تجھ کو سخت طلاق“ یا ”لمبی چوڑی طلاق“۔
اگر سائل مذکور نے صریح الفاظ طلاق نہ کہے بلکہ یوں کہے تو مجھ پر حرام ہے یا طلاق کی نیت سے کہے ”میں نے تجھے آزاد کیا یا نکل یا چل یا جایا دفع ہو یا شکل گم کر یا اور شوہر تلاش کر یا چلتی نظر آیا بستر اٹھا وغيرها کے الفاظ کہے یا طلاق کے الفاظ ہی یوں کہے تھے سب سے گندی طلاق یا سب سے سخت طلاق اس قسم کے الفاظ کہے تو اس صورت میں طلاق بائن واقع ہوگی اور اس
کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کے بعد دونوں صورتوں میں اگر مرد عورت دونوں نکاح کر لیں تو رجوع ہو جائے گا۔ اس میں حلالہ کی ضرورت نہیں ۔ البتہ اس صورت میں عورت سے نکاح کے لئے اس کی اجازت ورضامندی ضروری ہے اگر وہ راضی نہ ہو تو نکاح نہیں ہوسکتا۔ یونہی اگر عورت کو ایک یا دو طلاقیں رجعی دی تھیں اور شوہر نے عدت میں رجوع نہ کیا حتی کہ عدت گزر گئی تو اب نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا ۔ تب رجوع ہوگا اور ایسی صورت میں عورت کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر وہ راضی نہیں تو شوہر تنہا رجوع نہیں کرسکتا۔
📗✒رد المحتار ج 5 ص 40

👈(3)طلاقِ مغلّظہ یہ ہے کہ تین طلاق دے دے، اس صورت میں بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی اور بغیر شرعی حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
اگر سائل مذکور نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو بغیر حلالہ کے چارہ نہیں ۔ خواہ یکبارگی تین طلاقیں دیں یا جدا جدا کر کے ۔ ہر صورت میں اب بغیر حلالہ کے کوئی صورت دوبارہ نکاح میں آنے کی نہیں ۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے *فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَ* یعنی پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے
📗✒پ 2 سورہ بقرہ آیت مبارکہ 230
اور یہی بات بخاری و مسلم او دیگر کتب احادیث میں نبی کریم رؤف رحیم نےایک صحابی حضرت رفاعہ رضی الله تعالی عنہ کی بیوی سے فرمائی۔لہذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ اگر سائل مذکور نے واقعی میں تین طلاقیں دینے کے بعد پھر سے اپنی بیوی کو زوجیت میں رکھا ہوا ہے اور اس سے صحبت بھی کر رہا ہے تو یہ زنا کاری ہے جس کے متعلق شریعت مطہرہ میں سخت تر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں لہذا دونوں پر فرض ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علاحدہ ہو کر علانیہ توبہ و استغفار کریں۔ اگر وہ دونوں ایسا نہیں کرتے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان
دونوں کا سخت شدید مقاطعہ اور بائیکاٹ کریں تا کہ یہ دونوں مجبور ہوکر علاحدگی اختیار کریں اور علانیہ توبہ کرنے پر مجبور ہوجائیں، اگر مسلمان ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ خودگنہگار ہوں گے۔

       واللہ اعلم بالصواب

          ✍ کتبــــــــــــــــــــــہ:
حضرت علامہ و مولانا محمد جلال الدین احمد امجدی رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی

اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ }

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے