بیوی سے کہا کہ طلاق لے لو تو کیا طلاق واقع ہو گئی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ 
میرا ایک سوال ہے کہ 
اگر کوئی مرد اپنی عورت سے کہے کہ جاو اپنے والدین کو بلا کر لاو اور طلاق لے لو اور وہ اپنے والدین کو نہیں لیکر آتی ہے 
لیکن گاوں کے لوگ کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی 
تو کیا اس صورت میں طلاق ہوجائے گی 
بہت ہی جلد جواب کی ضرورت ہے

              سائل عرفان خان ممبئی

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

           وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ 
            الجواب۔بعون الملک الوھاب

 کسی کے کہنے پر طلاق واقع نہ ھوگی ۔ جب تک شوھر خود طلاق نہ دے تب تک طلاق واقع نہیں ھوسکتی ھے گاؤں والوں کے کہنے سے کچھ نہیں ھوتا ۔اور مرد نے جو یہ کہا کہ اپنے والدین کو بلاؤ اور طلاق لے لو اس سے یہ مراد ھوا کہ تمہارے ماں باپ جب ائیں گے تو سمجھاۓ گے اور ایک دوسرے کی بات سن کر دونوں کے درمیان صلح کرادیں گے ۔ 
صرف یہ کہناکہ بلاکر لاؤ اور طلاق لے لو اس سے طلاق نہیں پڑتی جب تک یہ نہ کہے کہ میں طلاق دیتاھوں یا اور کوئ ایسے جملے کہ جس سے طلاق واقع ھو ۔مرد نے طلاق کو مقیدکردیاتھا نہ عورت اپنے والدین کو لائ نہ طلاق ھوا ۔
اس طرح ایک سوال پر،، دولہا صاحب نے کہا بھجناھو ابھی بھیجو ورنہ طلاق لے لو الخ ۔۔۔۔۔ توجواب میں استاذالفقہاء حضورفقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمدالامجدی علیہ الرحمةوالرضوان نےارشادفرمایا،، 
اگرشوھر نے وہی جملے کہے جو سوال میں ظاھر کۓ گۓ ہیں توشوھر کی باتوں سے زبانی طلاق نہیں واقع ھوئ اور بلا وجہ شرعی طلاق دینا یا لینا اللہ تعالی کو سخت ناپسند ، مبغوض اور مکروہ ھے ۔
جیساکہ حدیث شریف میں ھے ۔ابغض الحلال الی الله تعالی الطلاق ۔
فتاوی فیض الرسول جلددوم صفحہ ١١٩
لھذا صرف اتنی سی بات پر جو سوال میں مذکور ھے طلاق واقع نہ ھوگی اور کسی کو کوئ حق نہیں کہ اس مرد یا عورت پر کسی قسم کا دباؤ ڈالیں ۔ کیونکہ اگر طلاق دینا ھوتا تو مقیدنہ کرتا ۔اور عورت کو اگر منظور ھوتا تو اپنے والدین کو فورا بلا لیتی مگر دونوں طرف سے رضامندی نہیں تھی ۔

وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

کتبه 
العبد محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ 

١٢ جمادی الاولی ١٤٤١ھ
9 جنوری ٢٠٢٠ء
اســـــلامی مـــعــلـومات گــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے