جانوروں کا پیشاب بطور دوا استعمال کرنا کیسا ہے



           السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض جانوروں کا پیشاب دوا کے طور پر استمال کرتے ہیں تو ایسا کرنا کیسا ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرما دیں 

               سائل محمد یوسف خان

           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

           
الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب

صورت مسؤلہ میں بطورتداوی بھی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےنزدیک اس کاپینا(یعنی بول مایوکل لحمہ) جائزنہیں ہے

ھدایہ میں ہے
*لایحل شربہ للتداوی لانہ لایتیقن بالشفاءفیہ فلایعرض عن الحرمہ*

ھدایہ جلداول صفحہ 42

امام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےنزدیک بطورعلاج پیناجائزہےقصہ عرینہ کےبناپر

لیکن امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سےقوم عرینہ کواونٹ کےدودھ وپیشاب پینےکاسرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاحکم دیناان لوگوں کےشفاءکایقین ہوناوحی کی بناپرتھا

جیساکہ صاحب ھدایہ نےاس طرح جواب دیاہیں 
*وتاویل ماروی انہ عرف شفاءھم وحیا*
*نیزحاشیہ میں اس کاجواب اورطریقےسےدیاہے*

حاصل کلام ان جانورں کوجن کےگوشت کھائےجاتےہیں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےنزدیک نجس ہےاس لےپینادوایااورطریقےسےجائزنہیں ہے

اورصاحبین کےنزدیک پاک ہےاس لیےامام ابویوسف کےنزدیک بطورتداوی پیناجائزہےاورامام محمدرحمہ اللہ کےنزدیک مطلقاپیناجائزہے


ماخوذ فتاوی شرف ملت جلداول صفحہ 163

              واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

            محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے