ایک رکعت میں دو سورت کی آیت پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں


 ســـــــــوال بـــــرائـــےعـــلـــمــاءاکـــرام 👇

     السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ اکرام اس مسؑلے کے بارے میں کہ امام صاحب پہلی رکعت میں دو آیت پڑھنے کے بعد قراؑت بھولنے پر سورت بدل دیا تو ایسی سورت میں سجدہ سہو ہے یا نہیں مدلل جواب عنایت فرماکر شکریہ کا کوقع دیں کرم ہوگا 

   ســائـل👈 محمــــد جمیل اختر گجرات

  ❂وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ❂  

    📚 الجوابــــــ بعون الملک الوہابـــــــ👇

 فرض کی اول دو رکعت میں اور سنن نوافل کی ہر رکعت میں کم سے کم تین چھوٹی آیت یا ایک بڑی آیت کا پڑھنا واجب ہے تو اگر امام صاحب دوآیت کی تلاوت کرکے بھولے جو تین چھوٹی آیتوں کے برار تھی تو انھیں رکوع کرلینا چاہئے نماز ہوجاتی. اور اگر دوآیت تین چھوٹی آیت کے برار نہیں تھی تو امام پر لازم ہے کہ کم سے کم تین چھوٹی آیتوں کی تلاوت کریں.
چونکہ دوپڑھنے کے بعد بھول گئے پھردوسری سورت کی تلاوت شروع کردیئے توایسی صورت میں نمازہوگئ اور سجدہ سہوکی بھی ضرورت نہیں ہے
 ہاں اگرقرآت کےدرمیان کوئی ایسی غلطی ہوئی کہ اس سےمعنی فاسدہورہاہےتواس کوہی درست کرنا لازم ہے خواہ امام صاحب خودسےدرست کریں یا پھر مقتدی کےدینے پر درست کریں جب تک درست نہ کریں نماز نہ ہوگی اگرچہ سجدہ سہو کرلیں
 (📕بـــہارشـــریـــعـــت)

       والـــلـــہ اعـــــــلـــم بـــالصــــواب

✍ از قــلـــم حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد افـســـــر رضـــا حشمتـی سعـدی عفـی عنـــہ صـاحـب قبـلـہ 

📚اســـــــلامی مـــعــلــومات گــــروپ 📚

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے