کیا ہجڑوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی



         السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہجروں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں اور دعا کون سی پڑھی جائے گی
 مفصل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

      سا ئل محمد نوید رضا سورت گجرات 
      ۔......................................................
         وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ 

*الجواب* صورت مسؤلہ میں اگرخنثی مسلمان ہے تو اسکی نماز جنازہ پڑھی جائیگی نیز خنثی مشکل بھی اگر مسلمان ہے تو اسکی بھی نماز جنازہ پڑھی جائیگی؛البتہ؛ خنثی مشکل کو نہ مرد نہلا سکتا ہے نہ عورت بلکہ تیمم کرایاجائے؛(بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 135) اور عالمگیری میں ہے؛الخنثی المشکل المراھق لم یغسلھا رجل ولا امرأۃ و تیمم وراء ثوب کذافی الزاھدی ھ۱(فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 150)نیز ؛؛ بالغ ہےتو بالغ کی دعا ورنہ نابالغ کی دعا پڑھیں گے اسلئے کہ خنثی ان اشخاص میں سے نہیں جنکی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے حضورصدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ہرمسلمان کی نماز جنازہ پڑھی جائے اگر چہ وہ کیساہی گنہ گار و مرتکب کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ انکی نماز جنازہ نہیں(1؛)؛ باغی جو امام برحق پر ناحق خروج کرے اور اسی بغاوت میں مارا جائے(2)؛؛ ڈاکو جو کہ ڈاکہ میں مارا گیا نہ انکو غسل دیا جائے نہ انکی نماز جنازہ پڑھی جائے مگرجب کہ بادشاہ اسلام نے ان پر قابو پایا اور قتل کیا تو نماز و غسل ہے یا وہ نہ پکڑے گئے نہ مارے گئے بلکہ ویسے ہی مرے تو بھی غسل و نماز جنازہ ہے(3؛)؛ جو لوگ ناحق پاسداری سے لڑیں بلکہ جو انکا تماشہ دیکھ رہےتھے اور پتھر آکر لگا اور مرگئےتو انکی بھی نماز جنازہ نہیں
4؛)؛ جسنے کئی شخص کوگلا گھونٹ کر مار ڈالے اسکی بھی نماز جنازہ نہیں(5)؛؛ شہر میں رات کو ہتھیار لےکرلوٹ مارکریں وہ بھی ڈاکو ہیں اس حالت میں مرجائیں تو انکی بھی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے(6؛)؛ جسنےاپنی ماں باپ کو مار ڈالا اسکی بھی نماز جنازہ نہیں(7)کسی کامال چھین رہا تھا اس حالت میں ماراگیا اسکی بھی نماز جنازہ نہیں (بہارشریعت جلد اول حصہ 4 صفحہ 827)


                       واللہ اعلم باالصواب 

      حضرت علامہ مولانا محمد ریحان رضا رضوی 


          اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے