چین والی گھڑی پہننے کا شرعی حکم؟؟؟



           اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

علماۓ ذوی الاحتشام کی بارگاہ میں عریضہ ہے کہ چین کی گھڑی پہننا کیسا ہے؟ نیز حالات نماز ہو یا غیر نماز۔اس پر اعلیٰ حضرت کا کیا موقف ہے؟ دلاٸل سے جواب مزین فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

      ساٸل: غلام مصطفیٰ رضوی، جمدا شاہی
.....................................................................
         وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

                الجواب بعون المک الوہاب 

چین والی گھڑی پہننا اور اسے لگاکر نماز پڑھنا جائز نہیں سرکار اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں گھڑی کی زنجیر سونے چاندی کی مرد کو حرام اور دھاتوں کی ممنوع ہے اور جو چیزیں ممنوع کی گئیں انہیں پہن کر نماز و امامت مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے احکام شریعت حصہ دوم صفحہ ١٧٠ حضور صدر الشریعہ فرماتے ہیں گھڑی کسی دھات سونے چاندی کی تو اسے لگاکر نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہےاسے اتار کر نماز پڑھنی چاہیےفتاویٰ امجدیہ جلد اول صفحہ ١٣٧


            واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ احقر العباد محمد امین قادری النعیمی رضوی غفرلہ مراداباد یوپی الہند

            اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے