مسجد میں گالی دینے والے پر کیا عند الشرع کیا حکم نافذ ہوگا



              السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مسجد کے اندر دوسرے مسلمان بھائی کو گالی دے تو اسکے لئے کیا حکم ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

        المستفتی محمد فاروق خان رضوی
.......................................................................
        وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ

               الجواب بعون المک الوہاب

 گالی دینا حرام ہے مسجد میں اور حرام ہے اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہےجیسا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ سباب المسلم فسوق اور جن جن لوگوں کو گالی دی ان سبھی سے معافی طلب کریں جب تک وہ ایسا نہ کریں اسکا بائیکاٹ جاری رکھیں
اللہ جل شانہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ 👇
واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظلمین
ترجمہ یعنی اگر شیطان کو بھلا دے تو یاد آنے پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھوں
(پارہ ٧ رکوع ١٤)
(📚حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر ٥٦/٥٧ پی ڈی ایف فائل)
علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بہار شریعت احکام مسجد کے بیان میں فرمایا کہ مباح باتیں بھی مسجد میں کرنے کی اجازت نہیں نہ آواز بلند کرنا جائز (در المختار صغیری)افسوس کہ اس زمانے میں مسجدوں کو لوگوں نے چوپال بنا رکھا ہے یہاں تک کہ بعضوں کو مسجد میں گالیاں دیتے بھی دیکھا جاتا ہے   نعوذبااللہ

                    نــــــــــــــــــــــــــــوٹ 👇
 جس شخص نے مسجد کے اندر گالی دی ہے اسے چاہیے کہ توبہ و استغفار کریں ورنہ وہ سخت گنہگار ہوگا
اور جن جن کو گالی دی ہے ان سے معافی بھی طلب کریں

     📚حوالہ بہار شریعت حصہ سوم باب مسجد

                   واللہ اعلم باالــــــصـــــواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ👈 ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

                 اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے