جہیز مانگ کر شادی کرنا کیسا ہے




            السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

کیافرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ شادی میں دہیز مانگنا اور لینا کیسا ہے 
مدلل ومفصل جواب سے نوازیں کرم ہوگا 


            سائل محمد عبد اللہ قادری 
       ۔......................................................
          وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

               الجواب بعون المک الوہاب 

 حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ لڑکا یا اس کے گھر والوں کا شادی کرنے کے لئے نقد روپیہ یا سامان جہیز مانگنا یا موٹر سائیکل وغیرہ کا مطالبہ کرنا حرام و ناجائز ہے اس لئے کہ وہ رشوت ہے ( فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 306 میں ہے کہ ) لو اخذ اھل المرأۃ شیئا عند التسلیم فللزوج ان یستروہ لانه رشوۃ کذا فی البحر الرائق یعنی عورت کے گھر والوں نے رخصتی کے وقت کچھ لیا تھا تو اسکے واپس لینے کا شرعاً حق ہے اس لئے کہ وہ رشوت ہے اور جب لڑکے سے لینا رشوت ہے تو لڑکی سے لینا بدرجہ اولیٰ رشوت ہےاس لئے کہ آیت کریمہ ہے کہ ان تبتغوا باموالکم کے مطابق نکاح کے عوض مہر کی صورت میں شوہر پر مال دینا واجب بھی ہوتا ہے اور بیوی پر کسی بھی حال میں نکاح کے بدلے کوئی مال واجب نہیں ہوتا لہذا نکاح پر لڑکی یا اس کے گھر والوں سے مال وصول کرنا رشوت ہی ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی و المرتشی یعنی حضور نے رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے یہ ترمذی ، ابو داؤد ، ابن ماجہ کی روایت ہے اور احمد بیہقی کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے کے درمیان واسطہ بننے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے ( مشکات شریف صفحہ 226 )لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت سے بچیں اور اپنی عاقبت خراب نہ کریں یعنی لڑکی والوں سے نکاح کے عوض کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں اور مانگنے کی صورت میں لڑکی والے ان کو کچھ نہ دیں اور اگر نہ مانیں تو ان کے درمیان واسطہ نہ بنیں بلکہ ان کو ذلیل قرار دیں یہ حکم اس صورت میں ہے جب صراحتاً یا اشارتاً مطالبہ کیا جائے اور اگر اپنی خوشی سے دیا جائے تو شرعاً کوئی قباحت نہیں 
( فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ 683 حظر و اباحت کا بیان )


                       واللہ اعلم باالصواب

       حضرت علامہ مولانا محمد ریحان رضا رضوی 

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے