کیا درود ابراہیمی مکمل درود پاک نہیں ہے



              السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ درود ابراہیمی مکمل درود ہے یا نا مکمل اگر کسی مسجد کا امام یہ کہے کہ درود ابراہیمی نا مکمل درود ہے تو ایسے امام کے بارے میں وضاحت کریں کہ کیا ایسا کہنا جائز ہے اور اگر نہیں تو ان پر کیا حکم ہے اور ایسے امام کے پیچھے انکی اقتداء میں نماز ہو جائے گی

          الســــاٸل کمیٹی نوری مسجد دربھنگہ

*::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::*

               وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

                    الجواب بعون المک الوہاب 

بلاشبہ درود ابراہیمی مکمل درود ہے البتہ اس میں سلام نہیں ہے درود ابراہیمی صرف درود ہے جس کو عربی صلاۃ ( علی النبی ) کہا جاتا ہے اور سلام کے لیے سلام مستعمل ہے 
چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھذا تسليم فکيف نصلی عليک قال، قولوا اللهم صل علی محمد الخ۔(صحيح بخاری، 2 : 708)صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو سلام ہے تو درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللھم صل پڑھو۔جب درود شریف کا حکم آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یارسول اللہ اما السلام عليک فقد عرفناه فکيف الصلوة قال قولوا اللهم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صليت علی ابراهيم وعلیٰ اٰل ابراهيم انک حميد مجيد۔(صحيح بخاری، جلد 2 ص 708)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا سلام کا تو ہمیں پتہ ہے درود کیسے پڑھیں۔ فرمایا اللھم صل پڑھو۔ چونکہ صحابہ کرام نماز کے اندر درود شریف کے حوالے سے پوچھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اللھم صل پڑھا کرو۔لہذا معلوم ہوا کہ درود ابراہیمی درود ہے مگر اس میں سلام نہیں ہےشاید امام صاحب اسی چیز کی وضاحت کرنا چاہ رہے ہونگے مگر اردو میں چونکہ دونوں یعنی درود و سلام کو درود ہی کہا جاتا ہے اس لیے لفظی خطا کے مرتکب ہو گئے ہیں ان کو یہ فتوی دکھائیں اور سمجھائیں کہ درود و سلام میں فرق معلوم کرلیں اور اپنے اس جملہ " درود ابراہیمی نامکمل درود ہے " سے رجوع کریں

            واللہ تعالٰی اعلم باالــــــصـــــواب 

کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی الفاظ القریشی نظمی صاحب کرناٹک الھند

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے