اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

روٹی کو چاقو سے کاٹ کر کھانا کیسا ہے




             السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ روٹی کو چاکو سے کاٹ کر کھانا کیسا ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

                المستفتی محمد ہارون

         وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

               الجواب بعون الملک الوہاب

روٹی کوچھری وغیرہ سےکاٹ کرکھانانصاریٰ کاطریقہ ہےاس لئےمسلمانوں کواس فعل سےبچناچاہئے

🖊جیساکہ ممتازالفقہاء حضورصدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں

روٹی کوچھری سےکاٹنانصاریٰ کاطریقہ ہےاس سےمسلمانوں کوبچناچاہئےہاں اگرضرورت ہومثلاڈبل روٹی کہ چھری سےکاٹ کراس کےٹکڑےکرلئےجاتےہیں توحرج نہیں یادعوتوں میں بعض مرتبہ ہرشخص کونصف نصف شیرمال دی جاتی ہےایسےموقع پرچھری سےکاٹ کرٹکڑےبنانےمیں حرج نہیں کہ یہاں مقصوددوسراہےاسی طرح اگرمسلّم ران بھنی ہوئی ہواورچھری سےکاٹ کرکھائی جائےتوحرج نہیں 


اسلامی اخلاق وآداب صفحہ 34

                 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

         محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

            اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست