مسبوق اپنی نماز کیسے ادا کریں



             اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

مفتی صاحب کے بارگاہ عالی میں عرض ہیکہ عصر کی نماز ہماری تین رکعت چھوٹ گی اب جاننا یہ ہے کہ اب ہم نماز کسے اعادہ کریں کیا پہلی رکعت میں ہمیں قاعدہ میں بیٹھنا کہ یا نہیں یادورکعت پڑھنے کے بعد بیٹھناہے حضور والا سے گزارش ہے صحیح طریقہ کیا ہے مہر بانی ہوگی حضور ذرا جلد بتائيں


       الســــاٸل محمد معراج کشن گنج بہار
»»»»»»»»»»»»»»🌹«««««««««««««««««
          وعلیکم السلام ور حمة الله وبركاته 

              الجواب بعون المک الوہاب


صورت مسئولہ میں مسبوق جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو تو اس کو پہلی رکعت میں قعدہ کرنی ہے کیوں کہ وہ مسبوق کے لئیے دوسری رکعت ہوگی_   فتاوی رضویہ میں ہے :امام کے سلام کے بعد اٹھ کر ایک رکعت و فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پر التحیات کے لئیے بیٹھے پھر کھڑا ہوکر ایک رکعت فاتحہ و سورت کے ساتھ پڑھے اور اس پر نہ بیٹھے پھر ایک رکعت صرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور قعدہ اخیرہ کر کے سلام پھیردے_ در مختار میں ہے :یقضی اول صلوته فی حق قراة واخرہ فی حق تشھد فی مدرک رکعة من غیر فجر یاتی برکعتین وفاتحة وسورة وتشھد بینھما وبرابعة الرباعی بفاتحة فقط ویقعد قبلھا* " (ترجمہ)اور مسبوق قراءت کے حق میں اپنی نماز کو اول اور تشہد کے حق میں آخر نماز کر کے نماز ادا کرے، فجر کے علاوہ ایک رکعت پانے والا دورکعتوں کو فاتحہ و سورت کے ساتھ ادا کرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے چار رکعتی نماز میں چوتھی میں صرف فاتحہ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے{ در مختار باب الامامة مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی 82/} {بحوالہ فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ ۲۴۴/۲۴۳ رضا فاؤنڈیشن لاہور }

               والله تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب 

     کتبـــــــــــــــــــــــــہ  محــــمد معصــوم رضا نوریمنگلور کرناٹک انڈیا26جمادی الآخر 1441ھ

               اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے