گاؤں کی مسجد چھوڑ کر شہر کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنا کیسا ہے





               السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ گاؤں کی مسجد چھوڑ کر شہر کی مسجد میں جانا جمعہ کی نماز کے لئے حالانکہ گاؤں کی مسجد میں کچھ صفیں خالی رہتی ہوں تو کیا گاؤں کی مسجد چھوڑ کر شہر کی مسجد میں جانا ناجائز و گناہ ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

  الســــاٸل محمد عطاء وارث رضوی مہاراشٹر الھند
*==============================*

            وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

            الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب👇*


صورت مسئولہ میں میں کوئی ناجائز و گناہ نہیں ہے کہ مسجد محلہ کا حق غیر جمعہ میں ہے جیسا کہ سرکار علیٰ حضرت علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ جمعہ مسجد جامع میں افضل ہے مسجد محلہ کا حق نماز پنجگانہ میں ہے جب وہ جامع نہیں اور دوسری جگہ اور دوسری جگہ جانے میں انکو آسانی ہے تو ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ہے(📗حوالہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر 749)اور گاؤں میں مذہب حنفی کے مطابق جمعہ وعیدین پڑھنا جائز نہیں بلکہ جمعہ ممنوع ہے پس جمعہ اگر شہر میں پڑھیں تو گناہ کیوں ہوگا جیسا کہ سرکار علیٰ حضرت علیہ رحمہ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ فرضیت و صحت وجواز جمعہ سب کے لئے اسلامی شہر ہونا شرط ہے جو جگہ بستی نہیں جیسے بن سمندر پہاڑ یا بستی ہے مگر شہر نہیں جیسے دیہات یا شہر ہے مگر اسلامی نہیں جیسے روس فرانس کے بلادان میں نہ جمعہ فرض ہے نہ صحیح نہ جائز بلکہ ممنوع و باطل و گناہ ہے اس کے پڑھنے سے فرض ظہر ساقط نہ ہوگا (فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر 715)ایک جگہ اور فرماتے ہیں مگر دربا عوام فقیر کا طریق عمل یہ ہے کہ ابتداء خود انھیں منع نہیں کرتا نہ انھیں نماز سے باز رکھنے کی کوشش پسند رکھتا ہے ایک روایت پر صحت ان کے لئے بس ہےــــــــــــــ وہ جس طرح خدا و رسول پاک کا نام لے غنیمت ہے مشاہدہ ہے کہ اسے روکتے تو وقتی چھوڑ بیٹھتے ہیں (ایضاً714) اور فرماتے ہیں کہ دیہات میں جمعہ وعیدین مذہب حنفی میں جائز نہیں اور جہاں ہو ہوتا ہے وہاں بند کرنا جاہل کا کام ہے قال اللہ تعالیٰ
ارایت الذی ینھی عبد صلی

                  واللہ اعلم باالــــــصـــــواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے