کیا مجبوری میں قربانی کے جانور کو بیچ سکتے ہیں


             السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک بکرا پالا قربانی کے نیت سے اور زید نے کسی مجبوری کے تحت قربانی سے پہلے ہی بکرا کو بیچ دیا اور کچھ دنوں کے بعد زید نے ایک گائے خریدی پالنے کے لیے اور اب وہ اس گائے کی قیمت لگا کر اس میں سے ایک حصہ لیکر قربانی کرے اس بکرے کے بدلے جس کو وہ کسی مجبوری کے تحت بیچ دیا تھا تو اس کی قربانی ہوگی یا نہیں؟؟؟جواب عنایت فرمائیں آپ حضرات برائے مہربانی

      الســــاٸل محمد عطاء وارث رضوی مہاراشٹر 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

         الـجـــوابـــــــ بــعــون الملکـــــ الوھاب

اگر ذید فقیر تھا پھر قربانی کے لئے خصی خریدا اور خریدتے وقت قربانی کی نیت کی تھی تو اس پر خصی کی قربانی واجب ہوگئی اسے بیچ کر گائے کی قربانی نہیں کرسکتا بلکہ اس جانور ہی کی قربانی کرے اور اگر بیچ دیا تو پورا رقم صدقہ کردے اور اگر زید مالک نصاب تھا تو بڑے کی قربانی میں روپیہ لگنے کے بعد بچا اس روپئےکو صدقہ کردے (ماخوذبہارشریعت جلد 15)اور اگر فقیر تھا خریدتے وقت نیت نہ تھی بعد میں نیت کی یا پالنے کے لئے لیا تھا بعد میں نیت کی تو اس پر قربانی واجب نہیں بیچ سکتا ہے (ماخوذ فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ نمبر 468)

                واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

       کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

            اســـــلامــی مـــــعــــلـومـــات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے