داڑھی کاٹنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے


             السلام علیکم علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ داڑھی کاٹنے والوں کے پیچھے نمازپڑھنا کیسا ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

   الســــاٸل محمد اختر رضا نوری سلطان پور یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

             الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

اسی طرح کے جواب میں حضور فقیہ ملت تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے جیسا کہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک در دین‌است یا بجہت آنکہ ثبوت آں بسنت است چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند یعنی داڑھی کو ایک مشت تک چھوڑ دینا واجب ہے اور جن فقہاء نے ایک مشت داڑھی رکھنے کو سنت قرار دیا ہے تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کے نزدیک واجب نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے کہ سنت سے مراد دین کا عام راستہ ہے یا اس وجہ سے کہ ایک مشت کا وجوب حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ نماز عید کو مسنون فرمایا حالانکہ نماز عید واجب ہے(اشعۃ اللمعات جلد اول صفحہ 212)اور (درمختار مع شامی جلد پنجم صفحہ 361) میں ہے یحرم علی الرجل قطع لحیتہ یعنی مرد کو اپنی داڑھی کاٹنا حرام ہے اور بہار شریعت حصہ شانزدہم میں ہے داڑھی بڑھانا سنن انبیاء سابقین سے ہے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے لہذا اگر شخص مذکور داڑھی کٹواکر ایک مشت سے کم رکھنے کا عادی ہے تو فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے(فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ نمبر 261) 

                 واللہ اعلم باالــــــصـــــواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیزمحمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے